منگل، 11 مارچ، 2014

کہانی ۔۔ بزم اردو لائبریری کی


 کہانی ۔۔ بزم اردو لائبریری کی 

لائبریری سے متعلق یہ تحریر جنوری  2014 میں ہی شائع ہو جانی چاہیے تھی لیکن  چاہتے ہوئے بھی کچھ تحریر نہیں کر سکا یا  دوسرے الفاظ  میں مصروفیات نے کبھی بلاگ کی طرف رخ کرنے کا موقعہ ہی نہیں دیا۔ آج    فیس بک پر  عزیز بھائی مکرم نیاز  اور دیگر احباب سے  اردو بلاگنگ کے متعلق تبادلہ خیال ہوا  تب ہی دل میں یہ خیال پیدا ہو تھا کہ آج ضرور لائبریری سے متعلق پوسٹ تحریر کروں گا  اتفاق سے 
 ابھی نیٹ کنیکشن  نہیں آ رہا ہے  اس لیے سونے سے پہلے آف لائن یہ پوسٹ تحریر کر رہا ہوں۔

کوئی ڈیڑھ سال پہلے کی بات ہے ۔۔ ہندوستان سے اردو  فورمز کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے احقر نے بہت سارے سنجیدہ مزاج احباب ، تعلیمی اداروں اور دینی مراکز سے رابطہ قائم کیا تھا تا کہ ایک وسیع ترین دینی ، علمی و  ادبی پورٹل شروع کیا جائے جہاں تشنگان علم و ادب سیراب ہو سکیں۔  لیکن یقین جانیے کہ پچاسوں لوگوں  سے رابطہ کرنے کے بعد محض چند احباب نے جواب دینے کی زحمت گوارا کی تھی ان چند لوگوں میں سے سید مکرم نیاز اور اعجاز عبید ( معروف بہ الف۔عین) صاحب نے نہ صرف میری حوصلہ افزائی کی بلکہ ہر ممکن تعاون بھی کیا۔
اعجاز عبید انکل کے مشورے سے یہ طئے پایا  کہ   فیس بک کی طرح ایک سماجی گٹھ جوڑ کی اردو  ویب سائٹ تیار کی جائے اور ساتھ میں علم و ادب کے سرمایہ کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک آن لائن لائبریری بھی  شروع کی جائے ۔
میں نے  تکنیکی طور سے اہل احباب سے تعاون حاصل کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن ۔۔۔۔۔
بالآخر تنھا محنت کرتے ہوئے  26 جنوری 2013  سے " بزم اردو سوشل نیٹورک " شروع کر دیا۔

میرے سامنے   دوسرا مسئلہ لائبریری کی ویب سائٹ تیار کرنا تھا ۔ میں ایک ایسے شہر میں مقیم ہوں جو بلحاظ اردو انتھائی  بنجر ہے  ۔اس لیے میں نے مالیگاؤں اور اورنگ آباد جیسے شہروں میں ویب ڈیولپر کی تلاش شروع کی لیکن  "اردو کےعقیدتمندوں " نے  اردو ویب سائٹ کی تیاری  کا خرچ اتنا بتایا جو میری دو  ماہ کی آمدنی سے بھی زیادہ تھا۔
ایک ماہ تک مسلسل تلاش کے بعد مجھے اپنے شہر میں دو غیر مسلم ڈیولپرس مل گئے جو کم خرچ میں ویب پر کام کرنے کے لیے راضی تھے۔ انہوں نے مجھ سے ویب سائٹ مکمل کرنے کے لیے  تین ہفتہ کا وقت مانگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
لیکن ۔۔ ابھی عشق کے امتحان اور بھی تھے۔

ویب سائٹ کے لیے نصف رقم میں پیشگی ادا کر چکا تھا  پورے تین مہینے گذر جانے کے بعد بھی زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی ۔۔ کچھوے کی چال چلتے ہوئے انہوں نے 6 مہینوں میں ویب سائٹ تقریباً 80  فیصد مکمل کر دی لیکن ابھی بھی اس میں بہت زیادہ بگس تھے۔میں نے انہیں کچھ رقم اور اداکر دی کہ شاید اس طرح  کچھ کام بن جائے۔
 لیکن۔۔۔۔ بالآخر طیش میں آکر مجھے ان دونوں سے جھگڑا کرنا پڑا اور وہ کام بھی اسی جگہ پر اٹک گیا۔
میں دوبارہ ویب ڈیولپرس کی تلاش میں جٹ گیا  لیکن اس ادھورے کام کو پورا کر نے کے لیے کوئی راضی نہ ہوا۔ ۔۔۔  وقت گذرتا جا رہا تھا اعجاز عبید انکل کو میل کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ پتا نہیں  وہ میرے بارے میں  کیا سوچتے ہوں گے۔
اردو  فورمز کی دنیا کی ایک مشہور  شخصیت سے رابطہ کیا  وہ اس سے پہلے اس طرح کے پروجیکٹ پر کام کر چکے تھے لیکن ان کا کوئی جواب نہیں آیا ۔۔ اعجاز انکل سے درخوات کی کہ آپ  ای میل کریں ۔۔ لیکن ان صاحب نے اعجاز انکل کو بھی جواب نہیں دیا۔
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی انہوں نے بڑا دلاسہ دیا لیکن اس کے بعد ایسے غائب ہوئے کہ نہ کال ریسیو کی اور نہ ہی ای میل کا جواب دیا۔ نا امیدی اس قدر طاری ہو گئی تھی کہ اب لائبریری ویب سائٹ کے نام سے الجھن ہونے لگتی تھی۔
  اس دوران ایک صاحب ملے جو ورڈپریس پر کام کرتے ہیں ان کا مشورہ تھا کہ "آپ کسٹم پروجیکٹ کو بھول جائیں میں آپ کو ایک ہفتہ میں بہترین ورڈ پریس بیسڈ  لائیبریری تیار کر دوں گا"۔اس وقت میں ورڈ پریس کو بطور بلاگنگ پلیٹ فارم ہی جانتا تھا ۔ لیکن ان صاحب کے اطمینان دلانے کے بعد میں تیار ہو گیا۔ لیکن یہاں بھی اپنی قسمت خراب تھی یا یہ کہا جا سکتا  ہے خدائے تعالٰی کو یہ ہی منظور تھا کہ ویب سائٹ میں خود تیار کروں۔۔۔۔  یہ حضرت بھی غائب ہوگئے۔
یا اللہ اب مزید کتنے امحانا ت باقی ہیں ؟

نہ پری کی زلف میں الجھا نہ ریش واعظ میں
دل غریب لقمہ ہوا امتحانوں کا
اس وقت ذہن میں بات آئی کہ کیوں نہ ورڈ پریس سے دو دو ہاتھ کر لیے جائے ؟ فوراً گوگل کے کان
 مروڑے ، مکرم بھائی کو ای میل کیا ۔۔۔  گوگل نے بتایا کہ یہ ایک بہترین سی ایم ایس ہے اور اس سے الگ الگ قسم کی ویب سائٹ بنائی جا سکتی ہے۔ مکرم بھائی کا جواب آیا کہ اگر آپ ایچ ٹی ایم ایل سی ایس ایس اور پی ایچ پی سے واقف ہوں تو ورڈپریس سے بہترین ویب سائٹ تیار کر سکتے ہیں۔
بلاگر کی وجہ سے ایچ ٹی ایم ایل اور سی ایس ایس کا مختصر تعارف ہو گیا تھا لیکن پی ایچ پی۔۔۔
خیر تقریباً مکمل ایک ہفتہ ورڈپریس کو سمجھنے میں سرف کیا ۔۔  پچاسوں آرٹیکل پڑھے یو ٹیوب  پر ٹیوٹوریل دیکھے۔۔۔۔۔ اور کچھ دنوں بعد ورڈپریس میری لوکل مشین پر انسٹال ہو گیا ۔
مختلف پلگ ان اور تھیمز کے تجربے کرنے میں مجھے بہت مزہ انے لگا تھا  اس دوران میں نے پچاسوں ورڈپریس تھیم کھوج نکالی  ۔ نہ جانے کتنی پلگ ان کو فعا ل اور غیر فعال کیا ۔پورے ایک مہینے کی کڑی جدوجہد کے بعد بالآخر میں ورڈپریس کو مختلف پلگ ان اور آئی پن نامی تھیم کے ذریعے ایک لائیبریری ویب سائٹ میں ڈھالنے میں کامیاب ہو گیا ۔
لیکن ابھی تک ویب سائٹ میں جاذبیت محسوس نہیں  ہو رہی تھی۔ اتفاق دیکھیے کہ اسی دوران مجھے اسکل پیجس نامی ویب سائٹ سے میرے ایک دوست کا دعوت نامہ ملا اور وہاں سے میں نے ایک ڈیزائنر ڈھونڈ نکالا۔ میں ڈیزائنر کو اپنے آئیڈیا دیتا گیا اور کچھ دنوں میں لائبریری ویب سائٹ ایک خوبصورت لے آؤٹ  کے ساتھ منظر عام  پر  آ گئی۔
یہاں جتنی بھی کتابیں پوسٹ ہو رہی ہے وہ اعجاز عبید انکلاور ان کے اردو محفل کے رفقاء کی محنت کا نتیجہ ہے اللہ ان تمام احباب کو جزائے خیر عطا فرمائیں۔  کتابوں کے سر ورق  کے لیے  فی الحال میں تنھا  کام کر رہاہوں۔ الحمد للہ  محض دو ماہ میں لائبریری کا فی مشہور ہو گئی ہے ۔
لائبریری  پر کام کرتے ہوئے مجھے بہت کچھ سیکھنے ملا اور الحمد للہ میں نے لائبریری کے بعد آن لائن ادبی 
جریدہ "سَمت " اور ایک نرسنگ انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ بھی بنائی۔

قارئین بلاگ سے درخواست ہے کہ لائبریری کے لیے اپنا قلمی تعاون ضرور پیش کریں۔