ہفتہ، 6 جولائی، 2013

اردو کی اینگلو انڈین شاعرات

اردو کی اینگلو انڈین شاعرات

( یہ مضمون میں ہما کے اردو نمبر سے نقل کر رہا ہوں جو اپریل 1972 میں منظرعام پر آیا تھا۔ مین نے پورا مضمون جوں کا 
توں نقل کرنے کی کوشش کی ہے کاتب کی غلطی سے اگر اشعار ساقط الوزن ہوں تو مجھے معذور سمجھا جائے۔)

اردو زبان کی ترقی   وتریج میں ہندوؤں ، مسلمانوں اور سکھوں ہی کا نہیں بلکہ عیسائیوں کا بھی حصہ ہے اگرچہ اس دور میں اردو کے عیسائی شاعر اور ادیب بہت کم نظر آتے ہیں۔ مگر اب سے   70- 80 برس قبل  نہ صرف عیسائی یا اینگلو انڈین یورپین مرد ہی ارد وشاعری کے میدان میں موجود تھے بلکہ خواتین بھی تھیں۔ چنانچہ ان میں سے بعض مشہور خواتین کا مطبوعہ کلام بھی ملتا ہے ان میں سے چند شاعرات کا حال درج ذیل ہے۔
ملکہ جان ملکہؔ
ملکہ جان ایک آرمینی خاتون تھی اپنے زمانہ کی ایک بہترین رقاصہ اور موسیقار ۔۔ کلکتہ میں مقیم تھی  اور " مخزن الفت ملکہ" کے نام سے اس نے اپنا دیوان بھی شائع کیا تھا ۔ یہ دیوان  محمد  وزیر ، مالک این پریس نے شائع کیا تھا۔ یہ دیوان  108 صفحات پر مشتمل ہے ار اس میں  106 غزلیں ہیں ، اس میں گیت ٹھمریاں وغیرہ بھی شامل ہیں۔ ملکہ شاعری میں حکیم بانو صاحب ہلال کی شاگرد تھیں۔ مشاعروں میں بھی شرکت کرتی تھیں اور اپنے یہاں بھی مشاعرے منعقد کرتی تھیں۔ چنانچہ اس سلسلے میں وہ کہتی ہیں
مملو ہے آج بزم سخن موج شعر سے
ملکہ ہے جش رحمت پرردگار کے
ملکہ  و ہ مجمع شعراء اور لطف شعر
قربان میں عنایت پروردگار کے
ملکہ کے دیوان کی ایک جلد برطانیہ کے عجائب گھر میں رکھی ہوئی ہے۔ حمد میں کہتی ہیں ،
دیکھا جسے وہ شاغلِ حمدِ غفور ہے
نغمہ یہی سنا ہے چمن مین ہزار کا
ملکہ ہے جس کے ورد زبں نام کبریا
صدمہ نہ ہوگا اس کو لحد کے فشار کا
غزل کے چند مختلف اشعار یہ ہے
اپنی حیرت کی کوئی شکل بنالوں تو کہوں
سامنے آئینہ سازوں کو بٹھا لوں توکہوں
دلِ صد چاک پہ ائے جان جہاں فرقت میں
کیا گزرتی ہے ذرا ہوش میں آ لوں تو کہوں
مختلف اشعار
کیا جفا و ظلم کا ملکہ ترے شکوہ کریں
جو کیا جان جہاں بہتر کیا اچھا کیا
جگر ملکہ کا اور فرقت کے صدمے
خط تقدیر میں یونہی لکھا تھا
ملکہ اسی طرح جو تصور بندھا رہا
ہوگی نصیب ان کی زیارت تمام رات



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

غیر اخلاقی و مضمون سے مناسبت نہ رکھنےوالے تبصرے حذف کر دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ذاتیات پر تنقید و نظریاتی اختلافات کی بناء پر انتہا پسندی والے تبصرے بھی شامل نہیں کئے جائیں گے۔