سوموار، 13 مئی، 2013

آپکا موبائل نمبر اب ذاتی نہیں رہا!


آپکا موبائل نمبر اب ذاتی نہیں رہا!
 سیف قاضی
جی ہاں صرف آپکا اپنا نمبر نہیں بلکہ ہندوستان کے وزرائ، صنعت کار ، فلمی شخصیات اور یہاں تک کہ خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ عہدہ داران تک کہ نمبر اب ذاتی نہیں رہے ہیں۔ کچھ دنوں قبل ہمارے ایک دوست نے ایک اینڈرائڈ ایپ کے بارے میں بتایا کہ یہ ایپ ایسی ہے جو بتا دیتی ہے کہ آنے والا نمبر کس شخص کے نام سے رجسٹرڈ ہے۔ ہمیں ان کی بات پر بالکل یقین نہیں ہوا۔اور ہوتا بھی کیسے۔ ہماری معلومات کے مطابق انڈیا میں موبائل فونس کی پبلک ڈائرکٹری سرے سے 
موجود ہی نہیں ہے اور ایسا کرنا حکومتی قوانین کے خلاف بھی ہے۔

 لیکن وہ اپنی بات پر بضد رہے کہ ایسے ایپ موجود ہیں۔ ہم نے فوراً گوگل پلے سے " ٹرو کالر " نامی اس ایپ کو ڈھونڈ کر ڈاونلوڈ کیا جس کے بارے میں یہ بتایا جا رہا تھا کہ یہ آپ کو نمبر کے ساتھ نام بھی بتا دیتا ہے۔ انسٹال کرنے کے بعد جب ہم نے اس کا استعمال کیا او ر متفرق دوستوں کے نمبر تلاش کیے تو بالکل ان دوستوں کے نام نظر آنے لگے۔ ہم فوراً True Caller کی ویب سائٹ پر پہنچے اور حقیقت جاننے کی کوشش کی کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے۔ تھوڑی دیر بعد یہ پتا چلا کہ یہ ایپ آپ کے فون بک سے تمام نمبر لے لیتا ہے ۔یہ نمبر نام اور ٹیلی کام سرکل کے ایڈریس کے ساتھ اس ایپ کے سرور پر محفوظ کر دیے جاتے ہیں اور جب بھی کوئی نمبر اس سے تلاش کریں تو اس کی معلومات ٹرو کالر کے سرور سے فوراً آپ کے موبائل فون پر دستیاب ہو جاتی ہے۔
کچھ اور سرچ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ ہندوستان اس سویڈش کمپنی کے ایپ کا سب سے بڑا مارکیٹ ہے اور اس کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگا یا جا سکتا ہے کہ اس ایپ کی ابھی تک گوگل پلے میں 85،787 ریٹنگس کی گئی ہے۔ اور اس کے انسٹال کرنے والے یوزرس کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ اس ایپ کو انسٹال کرنے کے بعد اگر یوزر " Enhanced Search " متبادل منتخب کرتاہو تو یوزر کی فون بک کے تمام نمبر ٹرو کالر کے سرور پر درج ہو جاتے ہیں۔ اندازہ لگائیے کہ اوسط ایک فون بک میں 150 نمبر محفوظ ہوتے ہیں ،اگر ایک کروڑ صارفین نے اپنے فون بک کے نمبر اس ایپ کے ساتھ شیئر کیے ہیں تو اس ایپ کے سرور پر کتنے لوگوں کے نام ان کے موبائل نمبر اور ایڈریس کے ساتھ جمع ہو گئے ہوں گے۔ ہماری فون بک کی ایک خاص بات یہ ہوتی ہے کہ ہم یاد رکھنے کے لیے نام کے ساتھ دوستوں کے کام کے تعلق سے بھی کوئی نوٹ ،نک نیم یا کوئی خاص شناخت درج کر دیتے ہیں،تاکہ سرچ کرنے اور ڈھونڈنے میں آسانی ہو ۔ جیسے " پرویز ڈاکٹر " ، " عارف بلڈر " ، وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح اس کمپنی کے پاس صرف نام اور نمبر نہیں بلکہ کام کی تفصیلات بھی جمع ہوتی جا رہی ہے جو ایک پریشان کن بات ہے۔
فی الحال یہ کمپنی مفت میں نمبر کے ذریعے نام تلاش کرنے کی اجازت دیتی ہے لیکن اگر آپ اس کے کریڈت خرید تے ہیں تو یہ آپ کو نام کے ذریعے بھی نمبر تلاش کرنے کی اجازت دیتی ہے اور یہ اس ایپ کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر فون ڈائرکٹری سے اپنا نمبر خارج کرنے کے لیے unlist کا متبادل بھی رکھا ہے ۔لیکن کسی شخص کی 
اجازت کے بغیر اس کے نمبر کو عام کر دینا یہ کسی بھی صورت میں قابل قبول بات نہیں ہے۔

یہاں پر یہ بات بھی واضح کر دینے کی ہے کہ اس سلسلہ کی یہ محض ایک ایپ نہیں ہے بلکہ انٹرنیٹ کی دنیا میں ایسے سیکڑوں ایپ اور ویب سائٹ موجود ہیں جو ایسی معلومات فراہم کر رہی ہیں جس کے بارے میںعام افراد کو تو خیر خواص کو بھی کچھ معلوم نہیںہے اور وہ ڈھکے چھپے انداز میںہماری پرسنل انفارمیشن جمع کر رہی ہیں۔ نیٹ کالنگ کے لیے مشہور ایپلی کیشن وائبر سے متعلق بھی اس طرح کے بہت سارے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔اس پر کاروائی کرنا اشد ضروری ہے کہ یہ معلومات کا ذریعہ نہیں بلکہ رازوں کو چرانے کا ایک خوبصورت اور موثر طریقہ ہے ،جس سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا یا جا سکتاہے ۔یہ حکومتوں اور دفاعی اداروں کے لئے بھی کم خطرناک نہیں ہے کہ نا جانے اس کے ذریعہ کون سی معلومات کب اچک لی جائے ،اور کب کس کو کو ٹارگیٹ بنا لیں ۔اسلئے اس بابت حکومتوں اور اداروں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فورا ًاس پر کاروائی کریں ۔اور عام لوگوں کے علاوہ ملک کے تحفظ کو بھی یقینی بنائیں ۔


4 تبصرے:

  1. بہت عمدہ بہت خوب ،معلوماتی بھی اور فائدہ مند بھی ۔
    اللہ کرے زور قلم زیادہ
    اگلی قسط کا شدت سے انتظار ہے ۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. معلوماتی،اور انکشافی تحریر

    جواب دیںحذف کریں

غیر اخلاقی و مضمون سے مناسبت نہ رکھنےوالے تبصرے حذف کر دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ذاتیات پر تنقید و نظریاتی اختلافات کی بناء پر انتہا پسندی والے تبصرے بھی شامل نہیں کئے جائیں گے۔