سوموار، 1 اپریل، 2013

اپریل فول اوراسلام


بزم اردو کے قابل احترام رکن اور بصیرت آن لائن کے ایڈیٹر جناب غفران ساجد قاسمی کی یہ تحریر آج 'اخبار مشرق کلکتہ میں شائع ہوئی تھی۔ چونکہ ہمارے اخبارات تصویوری شکل میں شائع ہوتے ہیں اور اس کی وجہ سے اہم مضامین بھی کہیں دفن ہو جاتے ہیں اس لیے میں نے قاسمی صاحب سے درخواست کی کہ مضمون کی ان پیج یا ورڈ فائل مجھے ارسال فرمائیں تاکہ اس مضمون کو محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ مضمون یہاں پوسٹ کر رہا ہوں امید کرتا ہوں اراکین بزم اس تحریر کو پسند کریں گے۔

اپریل فول اوراسلام
                                                                                                              غفران ساجدقاسمی
  چیف ایڈیٹر:  بصیرت آن لائن ڈاٹ کام،ریاض،سعودی عرب

جھوٹ،فریب،دغابازی اوردھوکہ دہی کی ممانعت صرف مذہب اسلام میںہی نہیں بلکہ دنیاکے تمام مذاہب میں موجودہے،اتناہی نہیں دنیاوی قانون بھی ایسے شخص کو مجرم گردانتی ہے جوان افعال قبیحہ کامرتکب پایاجاتاہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کی برائی بیان کرتے ہوئے بہت صاف اورصریح لفظوںمیں فرمایا:’’الصدق ینجی والکذب یہلک‘‘(الحدیث)،کہ سچائی انسان کونجات دلاتی ہے اورجھوٹ انسان کوہلاکت میں ڈالتاہے۔ایک دوسری طویل حدیث میں سچ اورجھوٹ کے فرق کواس طرح بیان کیاگیاہے:۔ترجمہ: حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کہ بے شک سچ نیکی کی طرف لے جاتاہے اورنیکی جنت کی طرف لے جاتاہے،اورجوشخص سچ بولتاہے یہاںتک کہ اللہ کے نزدیک اسے سچالکھ دیاجاتاہے،اورجھوٹ برائی کی طرف  لے جاتاہے اوربرائی جہنم کی طرف لے جاتاہے اورجوشخص جھوٹ بولتارہتاہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک اسے جھوٹالکھ دیاجاتاہے۔(بخاری۸؍۳۰)اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کی شان بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایاکہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتاہے:حضرت صفوان بن سلیم سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاگیاکہ کیامومن بزدل ہوسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشادفرمایا:ہاں،پھرپوچھاگیاکہ کیامومن بخیل ہوسکتاہے؟جواب میںارشادفرمایا:ہاں،آخرمیںپوچھاگیاکہ کیامومن جھوٹاہوسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاکہ نہیں،مومن جھوٹ نہیں بول سکتا۔(رواہ امام مالک فی المؤطا)
ہرسال پہلی اپریل کوپوری دنیامیں’’اپریل فول‘‘کے نام سے منایاجاتاہے،اوراس میں جانے انجانے میں ہم مسلمان بھی برابرکے شریک رہتے ہیں،اپریل فول کا مطلب جھوٹ اوردھوکہ کے ذریعہ ایک دوسرے کوبیوقوف بنانااورجب وہ بے وقوف بن کرشرمندہ ہوجائے تواپنی اس نام نہاداورجھوٹی کامیابی پرخوش ہونا،اسی کواپریل فول کہتے ہیں۔اپریل فول نام ہی ہے جھوٹ،فریب،مکراوردھوکہ بازی کاجس کی نہ تودنیاکاکوئی مذہب اجازت دیتاہے اورنہ ہی دنیاوی قانون،لیکن اس کے باوجودآج کی یہ مہذب دنیا اس قبیح فعل اورجھوٹ ودغابازی کے اس مکروہ عمل کوانجام دے کرخوش ہوتی ہے اورجوجتنے زیادہ لوگوںکواس جھوٹ اورفریب کے ذریعہ بے وقوف بناتے ہیںوہ اتنازیادہ فخرمحسوس کرتے ہیں،پہلے پیراگراف میں احادیث کے ذکرکرنے کامنشاومقصودہی یہی تھاکہ جس جھوٹ اورفریب کے گھناؤنے کھیل کاہم تذکرہ کرنے جارہے ہیںپہلے اسلامی تعلیمات کی روشنی میںاس کی قباحت کواچھی طرح سے اجاگرکردیاجائے۔مذکورہ حدیثوںمیںآپ یہ دیکھ رہے ہیںکہ کس طرح اسلام نے جھوٹ اورجھوٹ بولنے والوںکے لیے کتنی سخت وعیدیںبیان کی ہیںاتناہی نہیںبلکہ یہاںتک کہاگیاکہ مومن جھوٹ نہیںبول سکتا،اس کامطلب یہی ہواکہ جوجھوٹ بول رہا اورجھوٹ کے اس عمل میںشریک ہورہاہے خواہ وہ اسے ایک معمول کی ہنسی مذاق ہی سمجھ کرسہی وہ مذکورہ بالاحدیث کی روشنی میں مومن 
نہیں ہوسکتا،کیوںکہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

غیر اخلاقی و مضمون سے مناسبت نہ رکھنےوالے تبصرے حذف کر دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ذاتیات پر تنقید و نظریاتی اختلافات کی بناء پر انتہا پسندی والے تبصرے بھی شامل نہیں کئے جائیں گے۔