اتوار، 31 مارچ، 2013

شاعروں کی انوکھی مجلس دائرۃالکہلاء


والد صاحب کی پرانی کتابیں دیکھ رہا تھا اتفاق سے ہما اردو ڈائجسٹ کا 1976 میں شائع شدہ اردو نمبر ہاتھ لگا ۔ یہ انتہائی مفید ہے اورزبان اردو کی ارتقائی تاریخ اور محسنین اردو کے تذکرے پر مشتمل ہے۔ 
یہ موضوع اتنا دلچسپ لگا کہ بزم اردو میں اردو نامہ نام سے ایک سیکشن اس مضوع پر شروع کر دیا جہاں اردو نمبر کی منتضب تحریریں پوسٹ کر رہا ہوں۔ جو مضمون میں خود ٹائپ کرنے سے قاصر ہں وہ کسی اور دوست کو اسکین کر کے ارسال کر دیتا ہوں۔ زیر نظر تحریر اسی کتاب سے لی گئی ہے جو انتہائی دلچسپ ہے۔ اسے بزم میں موجود ایک دوست " ابولمزاح " صاحب نے ٹائپ کیا ہے۔ 
*****************************************************
شاعروں کی انوکھی مجلس دائرۃالکہلاء

جگر صاحب کا پہلی بار تقریبا ً تین ماہ بھوپال میں قیام رہا اس کے بعد وہ واپس چلے گئے اور ایک سال بعد وہ دوبارہ تشریف لائے اور محمود علی خان جامعی کے یہاں قیام کیا ۔ جو اس وقت بھوپال میں مردم شماری کے آفیسر تھے ۔ پھر محفلیں جمنے لگتیں اور بھوپال کے تقریباً تمام اچھے شعرا ء اس محفل میں حصہ لینے لگے ۔ ان میں کم عمر بھی ہوتے تھے جوان اور پیر بھی ۔ اور رات کے تین تین بجے تک محفل جمی رہتی تھی ۔ یہ زمانہ موسم برسات کا تھا ۔ اوربھوپال میں برسات کا موسم بہار کی کیفیت پیدا کرتا ہے ۔ اس موسم میں آرام طلبی کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور مزاج میں سستی آجاتی ہے ۔ اس لیے کاہلی کی تحریک شروع کی گئی ۔ ایک بات اور سامنے آئی ۔ چھوٹے بڑے ایک دوسرے کے سامنے بے تکلف نہیں ہو پاتے۔اور بے تکلفی کے بغیر کام نہیں چلتا تھا اس لیے بھی ضرورت محسوس کی گئی کہ ایک ایسی انجمن بنائی جائے جس میں فرق مراتب کا خیال ختم کر دیا جائے ۔ اور ان بے فکروں کو آداب ِ محفل سے کچھ حد تک بے نیازی حاصل ہو جائے ۔ 
مولوی مہدیؔ بھی اسی جگرؔنوازوں کی جماعت سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان کی عادت تھی کہ جب وہ آتے تو فوراً ہی لیٹ جاتے اور ہلکی چادر جسم پر ڈال لیتے اور صرف ایک پیر کو جنبش دیتے رہتے ۔ صبح سے رات تک انکا یہی معمول تھا ۔ چونکہ سب سے زیادہ معمر تھے ۔ اس لیے ہر فرد ان کا ادب و احترام کرتا تھا ۔ ان کی سستی اور کاہلی کو دیکھ کر ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ کیوں نہ ہر شخص کیلئے کام سے بچنے کے مواقع پیدا کیے جائیں ۔ چنانچہ کئی دنوں کی بحث ومباحثہ کے بعد ایک انجمن قائم کی گئی جس کا نام "دائرۃ الکہلا" رکھا گیا ۔
جس کی کی بنیاد محمود علی صاحب کے گھر پررکھی گئی ۔ پھر اسے "دارالکہلا " کا نام دیا گیا ۔ اس انجمن کی بنیاد کی وجہ یہ بتائی گئی کہ دنیا میں جتنی پریشانیاں اور مشکلات پیدا ہو رہی ہیں وہ سب سرعت رفتار کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہیں ۔ اسی کی وجہ سے جنگیں بھی ہو رہی ہیں اور جنگوں کیلئے آسانیاں بھی پیدا ہو رہی ہیں ۔ اسی کی وجہ سے دنیا والے مشکلات اور تکالیف میں گرفتار ہوتے چلے جا رہے ہیں اس لئے ضرورت کہ اس کی روک تھام کی جائے ۔ سستی اس سلسلے میں بڑی مددگار ثابت ہو سکتی ہے ۔ اسی غرض سے کاہلوں کی انجمن بنائی گئی تاکہ کاہلی اور سستی کی اشاعت کی جا سکے اور جنگ اور دوسری مشکلات کا سد باب ہو سکے ۔
انجمن کی فیس ایک تکیہ رکھی گئی ۔ جو شخص بھی اس انجمن کا رکن ہوتا تھا وہ ایک تکیہ لا کر دار الکہلا میں ڈال دیتا تھا ۔ ایک بات یہ طے پائی کہ لیٹا ہوا آدمی اول درجہ کا کاہل شمار کیا جائے گا ۔ بیٹھا ہوا دوم ۔ اور کھڑا ہوا سوم درجہ کا ۔ اس لیے لیٹا ہوا بیٹھے ہوئے کو اور بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے کو کسی کام کا حکم دے سکتا ہے ۔ مثلاً چلم بھرنا ، پانی پلانا وغیرہ ۔ کام سے بچنے کیلئے اکثر ممبران دروازے پر پہنچتے ہی کھڑے کھڑے لیٹ جاتے تھے اور لیٹے لیٹے کمرے میں داخل ہوتے تھے تاکہ کسی قسم کا حکم نہ دیا جا سکے ۔ موٹی کور کی پیالی میں چائے پینا ایک دم ممنوع قرار پایا ۔ اس لیے کہ اس میں منہ زیادہ کھولنا پڑتا ہے جو کاہلی کیلئے 
نقصان دہ ہے ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

غیر اخلاقی و مضمون سے مناسبت نہ رکھنےوالے تبصرے حذف کر دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ذاتیات پر تنقید و نظریاتی اختلافات کی بناء پر انتہا پسندی والے تبصرے بھی شامل نہیں کئے جائیں گے۔