اتوار، 31 مارچ، 2013

شاعروں کی انوکھی مجلس دائرۃالکہلاء


والد صاحب کی پرانی کتابیں دیکھ رہا تھا اتفاق سے ہما اردو ڈائجسٹ کا 1976 میں شائع شدہ اردو نمبر ہاتھ لگا ۔ یہ انتہائی مفید ہے اورزبان اردو کی ارتقائی تاریخ اور محسنین اردو کے تذکرے پر مشتمل ہے۔ 
یہ موضوع اتنا دلچسپ لگا کہ بزم اردو میں اردو نامہ نام سے ایک سیکشن اس مضوع پر شروع کر دیا جہاں اردو نمبر کی منتضب تحریریں پوسٹ کر رہا ہوں۔ جو مضمون میں خود ٹائپ کرنے سے قاصر ہں وہ کسی اور دوست کو اسکین کر کے ارسال کر دیتا ہوں۔ زیر نظر تحریر اسی کتاب سے لی گئی ہے جو انتہائی دلچسپ ہے۔ اسے بزم میں موجود ایک دوست " ابولمزاح " صاحب نے ٹائپ کیا ہے۔ 
*****************************************************
شاعروں کی انوکھی مجلس دائرۃالکہلاء

جگر صاحب کا پہلی بار تقریبا ً تین ماہ بھوپال میں قیام رہا اس کے بعد وہ واپس چلے گئے اور ایک سال بعد وہ دوبارہ تشریف لائے اور محمود علی خان جامعی کے یہاں قیام کیا ۔ جو اس وقت بھوپال میں مردم شماری کے آفیسر تھے ۔ پھر محفلیں جمنے لگتیں اور بھوپال کے تقریباً تمام اچھے شعرا ء اس محفل میں حصہ لینے لگے ۔ ان میں کم عمر بھی ہوتے تھے جوان اور پیر بھی ۔ اور رات کے تین تین بجے تک محفل جمی رہتی تھی ۔ یہ زمانہ موسم برسات کا تھا ۔ اوربھوپال میں برسات کا موسم بہار کی کیفیت پیدا کرتا ہے ۔ اس موسم میں آرام طلبی کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور مزاج میں سستی آجاتی ہے ۔ اس لیے کاہلی کی تحریک شروع کی گئی ۔ ایک بات اور سامنے آئی ۔ چھوٹے بڑے ایک دوسرے کے سامنے بے تکلف نہیں ہو پاتے۔اور بے تکلفی کے بغیر کام نہیں چلتا تھا اس لیے بھی ضرورت محسوس کی گئی کہ ایک ایسی انجمن بنائی جائے جس میں فرق مراتب کا خیال ختم کر دیا جائے ۔ اور ان بے فکروں کو آداب ِ محفل سے کچھ حد تک بے نیازی حاصل ہو جائے ۔ 
مولوی مہدیؔ بھی اسی جگرؔنوازوں کی جماعت سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان کی عادت تھی کہ جب وہ آتے تو فوراً ہی لیٹ جاتے اور ہلکی چادر جسم پر ڈال لیتے اور صرف ایک پیر کو جنبش دیتے رہتے ۔ صبح سے رات تک انکا یہی معمول تھا ۔ چونکہ سب سے زیادہ معمر تھے ۔ اس لیے ہر فرد ان کا ادب و احترام کرتا تھا ۔ ان کی سستی اور کاہلی کو دیکھ کر ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ کیوں نہ ہر شخص کیلئے کام سے بچنے کے مواقع پیدا کیے جائیں ۔ چنانچہ کئی دنوں کی بحث ومباحثہ کے بعد ایک انجمن قائم کی گئی جس کا نام "دائرۃ الکہلا" رکھا گیا ۔
جس کی کی بنیاد محمود علی صاحب کے گھر پررکھی گئی ۔ پھر اسے "دارالکہلا " کا نام دیا گیا ۔ اس انجمن کی بنیاد کی وجہ یہ بتائی گئی کہ دنیا میں جتنی پریشانیاں اور مشکلات پیدا ہو رہی ہیں وہ سب سرعت رفتار کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہیں ۔ اسی کی وجہ سے جنگیں بھی ہو رہی ہیں اور جنگوں کیلئے آسانیاں بھی پیدا ہو رہی ہیں ۔ اسی کی وجہ سے دنیا والے مشکلات اور تکالیف میں گرفتار ہوتے چلے جا رہے ہیں اس لئے ضرورت کہ اس کی روک تھام کی جائے ۔ سستی اس سلسلے میں بڑی مددگار ثابت ہو سکتی ہے ۔ اسی غرض سے کاہلوں کی انجمن بنائی گئی تاکہ کاہلی اور سستی کی اشاعت کی جا سکے اور جنگ اور دوسری مشکلات کا سد باب ہو سکے ۔
انجمن کی فیس ایک تکیہ رکھی گئی ۔ جو شخص بھی اس انجمن کا رکن ہوتا تھا وہ ایک تکیہ لا کر دار الکہلا میں ڈال دیتا تھا ۔ ایک بات یہ طے پائی کہ لیٹا ہوا آدمی اول درجہ کا کاہل شمار کیا جائے گا ۔ بیٹھا ہوا دوم ۔ اور کھڑا ہوا سوم درجہ کا ۔ اس لیے لیٹا ہوا بیٹھے ہوئے کو اور بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے کو کسی کام کا حکم دے سکتا ہے ۔ مثلاً چلم بھرنا ، پانی پلانا وغیرہ ۔ کام سے بچنے کیلئے اکثر ممبران دروازے پر پہنچتے ہی کھڑے کھڑے لیٹ جاتے تھے اور لیٹے لیٹے کمرے میں داخل ہوتے تھے تاکہ کسی قسم کا حکم نہ دیا جا سکے ۔ موٹی کور کی پیالی میں چائے پینا ایک دم ممنوع قرار پایا ۔ اس لیے کہ اس میں منہ زیادہ کھولنا پڑتا ہے جو کاہلی کیلئے 
نقصان دہ ہے ۔

سوموار، 11 مارچ، 2013

مولانا آزاد کا خط سید سلیمان ندوی کے نام




مولانا آزاد کا خط سید سلیمان ندوی کے نام

دارالمصنفین اور علامہ شبلی نعمانی سے تعلق کی بنا پر مولانا ابوالکلام آزاد کے تعلقات سید سلیمان ندوی سے بہت دیرینہ تھے۔ اس تعلق کی وجہ سے دونوں کے بیچ خطوط کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ خطوط علمی، ادبی اور تاریخی اعتبار سے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ زندگی کے آخری مرحلہ میں آزادکو یہ درد ستانے لگا کہ ان کے بعد ”الہلال“ کو کون سنبھالے گا، چنانچہ اسی قلق واضطراب میں انہوں نے ےہ خط سید سلیمان کو لکھا۔
نو جنوری 1914 ، کلکتہ
صدیقی الجلیل الاعز،
 افسوس کہ میں جس خط کا منتظر تھاوہ باوجود وعدہ آپ نے نہیں لکھا، بہرحال آج میں اپنے شورش قلبی سے مجبور ہوکر ایک بار اور کوشش وصل کرتا ہوں۔ آپ نے پونہ میں پروفیسری قبول کرلی، حالانکہ خدانے آپ کو درس وتعلیم سے زیادہ عظیم الشان کاموں کے لئے بنایا ہے۔کیا حاصل اس سے کہ آپ نے چند طالب علموں کو فارسی وعربی سکھا دی، آپ میں وہ قابلیت ہے کہ لاکھوں نفوس کو زندگی سکھلاسکتے ہیں۔
میرے تازہ حالات آپ کو معلوم نہیں، خدا شاہد ہے مسلسل چار گھنٹے کام نہیں کر سکتا، ورنہ آنکھوں میں تاریکی چھا جاتی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ’الہلال‘ ایک تحریک تھی جس نے استعداد پیدا کی لیکن اس استعداد سے معاً کام لینا چاہئے، اور میں نے قطعی ارادہ کر لیا ہے کہ خواہ الہلال کی کچھ ہی حالت کیوں نہ ہو لیکن کام شروع کر دیا جائے، چنانچہ شروع بھی کر دیا ہے، ایسی حالت میں قباحت ہے، اگرچہ آپ باوجود استطاعت و طاقت رکھنے کے میری اعانت سے انکار کر دیں۔ آپ یاد رکھئے کہ اگر ان مصائب و موانع کی وجہ سے میں مجبور رہ گیا تو قیامت کے دن یقینا آپ اس کے ذمہ دار ہوں گے کہ آپ نے ایک بہت بڑے وقت کے رد عمل کو اپنی علیحدگی سے ضائع کر دیا۔ آپ آ کر الہلال بالکل لے لیجئے، جس طرح جی چاہئے اسے ایڈٹ کیجئے، مجھے سوا اس کے اصول و پالیسی کے (جن میں آپ مجھ سے متفق ہیں) اور کسی بات سے تعلق نہیں، میں بالکل آپ پر چھوڑتا ہوں اور خود اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتا ہوں، صرف اپنے مضامین دے دیا کروں گا، اور کچھ تعلق نہ ہوگا۔
ایک وقت یہ ہے کہ ہر کام کے لئے شرائط کا اظہار ضروری ہے، اور ایسا کیجئے تو آپ کہتے ہیں کہ طمع دلاتے ہو، استغفراللہ، لیکن میں یقین دلاتا ہوں کہ بغیر کسی ایسی نیت کے محض شرائط معاملہ کے طور پر چند امور عرض کرتا ہوں۔
 یہ ایک بہتر کام ہے جو الہلال کی گرفتاریوں کی وجہ سے میں شروع نہیں کر سکتا۔ اب اگر اور دیر ہو گئی تو سخت نقصان ہوگا اور اسی لئے میں نے آخری فیصلہ اس کی نسبت کر لیا ہے۔ میں آپ کو پابند نہیں کرنا چاہتا لیکن اگر آپ خود چاہیں تو جتنی مدت کے لئے کہیں معاہدہ قانونی بھی ہو سکتا ہے۔
مجھ کو پوری امید ہے کہ میری یہ سعی بے کار نہ جائے گی کیونکہ میں سچے دل سے آپ کا طالب ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ سچی طلب و مودت ہمیشہ کامیاب ہوتی ہے۔
ابوالکلام


 بشکریہ ٹی ایس آئی


ہفتہ، 2 مارچ، 2013

کمپیوٹر انٹرنیٹ اور زبان اردو

 یہ مضمون علی شیراز کے بلاگ سے ماخذ ہے ۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر فروغ اردو کی نسبت سے کچھ اسی طرز کا مضمون ہندوستانی اردو اخبارات کے لیے تحریر کرنا مقصود تھا لیکن اس مضمون پر جب نظر پڑی تو الگ سے ایک اور مضمون تحریر کرنا وقت کی بربادی محسوس ہوئی اور  یہ مناسب لگا کہ اسی میں کچھ مفید اضافے کر دیے جائیں ۔ اس مضمون میں ہندوستان سے اردو کے لیے کی گئی کوششوں کا تذکرہ نہیں کیا گیا تھا اعجاذ عبید صاحب سے مشورہ اور تصحیح کے بعد مزید کچھ اضافوں کے ساتھ یہ مضمون اخبارات کو ارسال کر دیا گیا۔ 
قارئین سے گذارش ہے کہ اصلاح کی کوئی صورت نظر آئے تو ضرور مطلع فرمائیں۔  


کمپویٹر انٹرنیٹ اور زبان اردو
عصر حاضر میں کمپیوٹر اور انٹر نیٹ ایک بنیادی ضرورت اور ہماری زندگی کا جزو لاینفک بن چکا ہے۔ خیالات کی ترسیل کے لئے پہلے خطوط لکھے جا تے تھے اور کاغذ انسانی ہاتھ کے لمس کی مہک سے معمور ہوتے تھے۔ کاغذ کے دور سے کی بورڈ، کتاب کے دور سے ای کتاب اور خط کے دور سے ای میل تک کا سفر انسان نے بہت جلد طے کر لیا۔ یہ سب کچھ جدید ٹیکنالوجی کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کی بدولت ہوا۔ فاصلوں کا جھنھجٹ ہی ختم ہوا اور جغرافیائی سرحدیں اپنا سا مْنہ لے کر رہ گئیں۔
اردو کمپیوٹنگ دراصل کمپیوٹر پر اردو استعمال کرنے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو کے متعلق اور اردو میں تعلیم و تحقیق کا نام ہے۔ برصغیر میں ٹائپ رائٹر کی آمد کے تھوڑے عرصے بعد ہی اردو بھی ٹائپ رائٹر سے لکھی جانے لگی لیکن ٹائپ رائٹر سے صرف نسخ رسم الخط یعنی نسخ فانٹ میں ہی اردو لکھی جا سکتی تھی۔ بلکہ مولانا ابو الکلام آزاد کی کچھ تصانیف کی کمپوزنگ بھی ٹائپ کے ذریعے ہوئی تھی۔
نستعلیق رسم الخط تکنیکی لحاظ سے تھوڑا پیچیدہ ہے کیونکہ اگر ہم مشین پر نستعلیق لکھنے کے حوالے سے بات کریں تو جیسے جیسے کسی لفظ کے میں حروف کا اضافہ ہوتا ہے ویسے ویسے پچھلے حروف نئے لکھے گئے حرف کے مطابق اپنی شکلیں اور جگہیں تبدیل کرتے ہیں۔ نستعلیق کی ایسی پیچیدگیوں کی وجہ سے ماضی میں کئی لوگوں نے یہ کہا تھا کہ اردو کا معیاری رسم الخط فارسی والوں کی طرح نستعلیق سے نسخ کر دینا چاہئے۔اور بعض احباب نے تو یہاں تک مشورہ دیا تھا کہ اردو کی ترقی کے لیے رومن یا دیوناگری رسم الخط کا استعمال کرنا چاہیے۔
کمپیوٹر کا دور شروع ہوتے ہی اردو والوں نے بھی کمپیوٹر کے ذریعے کتابت کرنے کی کھوج لگانی شروع کر دی۔ تقریباً 1980ء میں پاکستان کے ایک بڑے اشاعتی ادارے کے مالک مرزا جمیل احمد نے جنگ گروپ کے تعاون سے کاروباری نکتہ نظر سے ایک نستعلیق نظام تیار کروایا جس کو انہوں نے اپنے والد مرزا نور احمد کے نام پر نوری نستعلیق کا نام دیا۔اسی نظام کی کچھ تختیاں وہ ہندوستان میں فرحان اشہر (مشہور افسانہ نگار جیلانی بانو اور ادیب انور معظم کے صاحبزادے)کے پاس چھوڑ آئے تھے۔ انہوں نے راجیو شری واستو کے ساتھ مل کر ’اردو پیج کمپوزر‘ یا ’صفحہ ساز‘ نامی سافٹ وئر بنایا۔ جس سے روزنامہ سیاست حیدر آباد نے کمپیوٹر کی چھپائی کا آغاز کیا۔ ادار? سیاست کے تعاون کی وجہ سے فرحان نے اس سافٹ وئر کے نستعلیق فانٹ کا نام بھی سیاست کے بانی عابد علی خاں کے نام پر ’عابد‘ رکھا۔ ہندوستان میں عرصے تک یہ سافٹ وئر استعمال کیا جاتا رہا۔ اور اب بھی حکومت ہند کے محکمہ انفارمیشن ٹکنالوجی میں اس کا نیا روپ ’ناشر‘ کے نام سے دستیاب ہے۔ یہاں سے کمپیوٹر کے ذریعے کتابت کا آغازہوا۔2000ء تک اردو کے کئی سافٹ ویئرز بنے اس کے بعد 2000ء تک کاروباری نقطہ نظر اور عام کمپیوٹر صارفین کے لئے کئی ایک سافٹ ویئرز بنے۔ ان میں جو سافٹ ویئر معیاری تھے وہ کاروباری نکتہ نظر سے بنائے گئے تھے اور ان کی قیمت عام صارفین کے بس سے باہر تھی۔ اس کی سب سے بڑی مثال ان پیج ہے جو کہ آج بھی تقریباً پندرہ ہزار روپئے قیمت کا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سافٹ ویر بھی کنسیپٹ سافٹ   ویئرزویئرز نامی کمپنی نے  ہندوستان   دو غیر مسلم انجنیئر راریندر سنگھ اور وجئے گپتا کی کوششوں سے بنایا تھا۔ اسے بنانے میں کامران روحی کی کمپنی ملٹی لنگل سولیوشنز  (یوکے ) اپنا تعاون پیش کیا تھا۔   
اس میں کوئی شک نہیں ان پیج اپنے وقت کا ایک معیاری سافٹ ویئر تھا لیکن اس کی وجہ شہرت شاید اس کے معیار کی بجائے اس کی چوری تھی ہوا یوں کہ پاکستان کے کسی مسٹر ڈونگل نے اس سافٹ ویئر کو کریک کر کے ہر ایک کے لئے مارکیٹ میں پھیلا دیا اب آپ اسے سافٹ ویئر کی چوری کہیں یا کچھ اور۔شر سے خیر نے جنم لیا کہیں یا جرم سمجھیں۔لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ اس جرم کے نتیجہ میں ہی عام صارف کمپیوٹر پر بہتر انداز میں اردو لکھ پایا۔ شروع میں کمپیوٹر کے آپریٹنگ سسٹمز میں جس طرح انگریزی کی سہولت موجود تھی اس طرح اردو کی سہولت نہیں تھی یعنی جہاں کچھ لکھا جا سکتا تھا وہاں پر انگریزی تو لکھی جا سکتی تھی مگر اردو نہیں لکھی جا سکتی تھی اس لئے اردو کے لئے علیحدہ نظام بنا کر اور پھر اس خاص نظام کے ذریعے سافٹ ویئرز سے بنائے جاتے دراصل ان پیج اور تب کے دیگر اردو سافٹ ویئر کا اپنا اپنا ایک الگ نظام تھا اور یہی وجہ تھی کہ ان سافٹ ویئرز میں لکھی ہوئی اردو تحریر صرف انہیں میں ہی دیکھی جا سکتی تھی تب اگر کسی کو تحریر کسی دوسرے سافٹ ویئر یا انٹرنیٹ پر لے جانا پڑتی تو پہلے وہ تحریر کو تصویر میں منتقل کرتے اور پھر اس تصویر کو اپنی مطلوبہ جگہ پر لے جاتے۔ یعنی تب کمپیوٹر کی اردو نہیں بلکہ تصویری اردو تھی۔
یہ مسئلہ صرف اردو کے ساتھ نہیں تھا بلکہ دیگر کئی ایک زبانوں کے ساتھ تھا اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کام شروع ہوا اور پھر ایک ایسا نظام بنایا گیا جس میں دنیا کی تقریباً تمام زبانوں کو لکھنے کی سہولت دی گئی۔ اس نظام کا نام یونیکوڈ ہے۔
ونڈوز کے پرانے ورڑن میں ہی یونیکوڈ نظام شامل کر دیا گیا تھا لیکن اردو کے حوالے سے یونیکوڈ نظام کو مکمل طور پر ونڈوز ایکس پی میں شامل کیا گیا اس سہولت کے شامل ہونے سے کسی خاص اردو سافٹ ویئر کی ضرورت باقی نہ رہی بلکہ جہاں دیگر کوئی زبان جیسے انگریزی لکھی جاتی تھی وہیں پر اردو بھی بالکل ویسے ہی لکھنے کی سہولت مل گئی اور یہیں سے اصل معنیٰ میں اردو کمپیوٹر میں شامل ہوئی۔
کمپیوٹر کی اصل اردو: اردو ہو یا کوئی بھی زبان کمپیوٹر صرف اسے ہی تحریر سمجھتا ہے جو اس کے تحریر لکھنے والے نظام کے تحت لکھی جاتی ہے کیونکہ اب کمپیوٹر پر تحریر لکھنے کا نظام یونیکوڈ ہے لہٰذا کمپیوٹر صرف اسے ہی تحریر سمجھے گا جو یونیکوڈ نظام کے تحت لکھی جائے گی۔
یونیکوڈ نظام سے پہلے کیونکہ ہم براہ راست ہر جگہ اردو نہیں لکھ سکتے تھے اس لئے مجبوری تھی بلکہ واحد راستہ یہ تھا کہ اگر ہمیں انٹرنیٹ پر اردو ڈالنی ہے تو اسے تصویر صورت میں منتقل کر لیں۔ یعنی تصویری اردو سے کام چلایا جاتا۔ اس تصویری اردو نے جہاں کمپیوٹر پر وقتی طور پر کام چلایا وہیں پر بعد میں وہی تصویری اردو اردو کی ترویج کے لئے زہر قاتل ثابت ہوئی اور ابھی تک یہ تصویری اردو ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اب جب ہم جدید تقاضوں کے مطابق بالکل انگریزی کی طرح اردو لکھ سکتے ہیں تو پھر ہمیں تصویری اردو کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر آپ غور کریں تو کمپیوٹر کا سب سے زیادہ استعمال جلد سے جلد اور آسانی سے معلومات کا حصول ہے جس کی سب سے بڑی مثال انٹرنیٹ کی دنیا سے منٹوں میں بہت ساری معلومات حاصل کر لی جاتی ہے یعنی کمپیوٹر کا سب سے زیادہ استعمال معلومات کی تلاش ہے لیکن تصویری صورت میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر پھیلائی ہوئی اردو میں سے کچھ تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر نہ تو آپ گوگل میں تصویری اردو کے ذریعے کچھ تلاش کر سکتے ہیں اور نہ ہی گوگل تصویری اردو سے کچھ تلاش کر کے آپ کو مطلوبہ معلومات فراہم کر سکتا ہے کیونکہ کمپیوٹر تصویری اردو کو ایک تصویر سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا اور اس تصویری اردو کے نقصانات ہی نقصانات ہیں بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں تصویری اردو کو اردو کہنا ہی، اردو کی توہین ہے چھوٹی سی بات یہ کہ تصویری اردو ایک اندھیرا کنواں ہے جبکہ کمپیوٹر کی اصل یعنی جدید یونیکوڈ نظام کے تحت لکھی جانے والی اردو میٹھے پانی کا وہ چشمہ ہے جو ساری دنیا کو سیراب کر سکتا ہے۔ یاد رہے کمپیوٹر کی نظر میں تحریر وہی ہے جو یونیکوڈ نظام کے تحت لکھی جاتی ہے۔ یونیکوڈ اردو کے فوائد ہی فوائد ہیں۔ جہاں جہاں کمپیوٹر دیگر کسی زبان میں کچھ کر سکتا ہے بالکل وہیں پر یونیکوڈ اردو میں اردو کے لئے وہی سب کچھ کر سکتا ہے جو کسی دیگر زبان کے لئے کرتا ہے یونیکوڈ اردو اور تصویری اردو میں فرق سمجھنا ایک عام کمپیوٹر صارف کے لئے نہایت ہی آسان ہے سیدھی اور سادہ بات یہ کہ جو اردو تصویری کی صورت جیسے GIFیا JPG وغیرہ میں ہو وہ تصویری اردو ہے اور جو عام تحریر، جسے ہم منتخب کر کے ایک جگہ سے دوسری جگہ کاپی پیسٹ کر سکیں وہ یونیکوڈ اردو یعنی کمپیوٹر کی اصل اردو ہے۔ مثال کے لئے آپ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ دیکھیں تو وہ یونیکوڈ اردو میں ہے جبکہ ہمارے اکثر ہندوستانی اور پاکستانی اخبارات کی ویب سائٹ تصویری اردو میں ہیں۔
ونڈوز ایکس پی میں اردو کی مکمل سہولت شامل تو ہو گئی تھی لیکن اردو کے لئے دیگر کئی قسم کی چیزیں جیسے کیبورڈ لے آؤٹ سافٹ ویئر اور فانٹ وغیرہ تیار کرنے اردو ویب سائٹ بنانے اور خاص طور پر اردو بلاگنگ جیسے کام اور کئی دیگر مسائل کا حل خود اردو والوں کو کرنا تھا اور سونے پر سہاگہ یہ کہ انیسویں صدی میں جینے والے یعنی تصویری اردو سے کام چلانے والوں کو بھی سمجھانا تھا کہ جدید طریقوں سے اردو لکھو تاکہ اردو کی ترویج آسانی سے ممکن ہو سکے یہ ساری کوششیں ایک عام صارف کے لئے کرنی تھیں تاکہ وہ آسانی سے کمپیوٹر پر اردو لکھ سکے جبکہ کاروباری لوگ تو بہت پہلے سے کاروباری نکتہ نظر سے اور پیسے کے زور پر اپنے کام چلائے ہوئے تھے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم میں اردو کی سہولت شامل ہونے کے بعد ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو کی ترویج کے لئے انفرادی طور پر لوگ کام کر رہے تھے۔2002 میں ہی اعجاز عبید (اصل نام اعجاز اختر) نے یاہو اردو کمپیوٹنگ گروپ بنایا۔ اور اردو کی کمپیوٹر پر تدریج کے لئے اس فعال گروپ میں ہند و پاک کے سارے تکنیکی لوگ جمع ہو گئے۔ اسی گروپ اور اردو پاک ٹائپ گروپ کے ارکان نے اور بہت سے نسخ یونی کوڈ فانٹس اور مختلف کی بورڈس بنائے۔اسی دوران 2002ء میں ہی بی بی سی اردو نے جدید یونیکوڈ نظام کے تحت اپنی ویب سائٹ بنا دی یہ ویب سائٹ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اردو لکھنے لگی۔ اور اس نے بہت شہرت حاصل کی کمپیوٹر میں اردو شامل ہو چکی تھی تو ہر ادارے نے اس طرف دوڑیں لگا دیں2004ء میں مشہور آن لائن انسائیکلوپیڈیا یعنی وکی پیڈیا نے بھی اردو کو شامل کر لیا اور اب تو گوگل تک اردو میں دستیاب ہے۔ 2005ء تک زیادہ تر انفرادی طور پر کام ہوتا رہا۔ اس کے علاوہ حکومت پاکستان کا ادارہ ’مقتدرہ اردو زبان‘ تھا جس نے کچھ کام کیا تھا اور کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ سارے فعال رضاکار یاہو اردو کمپیوٹنگ گروپ سے متعلق تھے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج کا اصل کام تب شروع ہوا جب 2005ء4 میں چند رضاکاروں نے مل کر اردو ویب ڈاٹ آرگ ویب سائٹ کی بنیاد رکھی۔ نبیل نقوی جو خود بھی یاہو اردو کمپیوٹنگ گروپ کے رکن تھے، نے یہ خیال ظاہر کیا کہ اگر اردو لکھنے کے لئے آن لائن ٹول دستیاب ہو سکے تو عام آدمی کی بورڈ اور فانٹ کے علم کے بغیر اردو لکھ سکے۔ اسی خیال کو عملی جامہ پہناتے ہوئے نبیل نقوی نے اردو پیڈ کے نام سے ایک ایڈیٹر بنایا۔اور نبیل نقوی کے ساتھ زکریا اجمل، آصف اقبال اور قدیر احمد نے اسی ویب سائٹ پر ایک فورم تشکیل دیا گیا اور اس کا نام اردو محفل رکھا۔ پی ایچ بی بی نامی سافٹ وئر کو اردو روپ دیا تھا قدیر احمد نے اور اس میں نبیل کا اردو پیڈ شامل تھا۔ اسی فورم پر تمام رضاکار مل کر تکنیکی اور دیگر حوالوں سے اردو کی ترویج کے لئے کھوج لگانے لگے خاص طور پر جدید نظام کے مطابق اردو میں ویب سائٹ بنانے اور انٹرنیٹ کے ایک موثر ہتھیار یعنی بلاگ اردو میں بنانے پر کام کیا گیا۔ اردو ویب والوں نے شروعات میں ہی اردو سیارہ کے نام سے ایک بلاگ ایگریگیٹر بنا دیا تھا آج آپ کو انٹرنیٹ پر جو اردو نظر آ رہی ہے اس میں سب سے بڑا ہاتھ اردو ویب ڈاٹ آرگ کا ہی ہے۔ اردو ویب کی بدولت کئی ایک اردو فورم وجود میں چکے تھے لیکن ایک اچھے نستعلیق رسم الخط کی کمی ہر جگہ محسوس ہوتی تھی پھر 2008ء میں پشاور کے ایک نوجوان2008ء امجد حسین علوی نے علوی نستعلیق بنا کر جیسا انقلاب برپا کر دیا گو کہ آج بہت کم لوگ علوی نستعلیق کے بارے میں جانتے ہیں مگر اردو محفل کے ہی پلیٹ فارم سے علوی نستعلیق ہی تھا جس نے فانٹ سازی کو ایک نئی راہ دکھائی پھر اردو محفل میں ہی اسی راہ پر چلتے ہوئے جمیل نوری نستعلیق بنا اور اب حا ل ہی میں شاکر القادری صاحب نے اردو والوں کو وہ تفہ دے دیا جو قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے۔ شاکرالقادری صاحب نے ہمیں القلم تاج نستعلیق کی صورت میں ایک بہت بڑا تفہی دیا۔ القلم تاج نستعلیق مکمل طور پر مفت ہے اور بلا خوف و خطر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اردو ویب سائٹ بنانے اور اردو میں بلاگنگ کے مسائل کے حل ہوتے گئے کئی مشہور سافٹ ویئر کا اردو ترجمہ ہوا یہاں تک کہ ایک نوجوان محمد علی مکی نے لینکس آپریٹنگ سسٹم کا اردو ترجمہ کر ڈالا ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو والوں کا قافلہ دن بدن بڑھتا جا رہا تھا۔
اردو بلاگنگ کے ارتقاء4 کے لئے بھی ایم بلال کا زبردست رول رہا ہے۔ اردو میں بلاگ کس طرح بنایا جائے، اس کے ٹیوٹوریل لکھے۔ کئی رضاکاروں نے بلاگ کے سانچے بنائے، اس کے علاوہ مرحوم اردو ٹیک نامی ویب سائٹ نے اردو بلاگ کی پیش کش کی تو بہت سے لوگوں نے بلاگس شروع کئے۔ بیشتر اردو بلاگس میں رائے کے اظہار کے لئے وہی نبیل نقوی ولا اردو پیڈ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
لیکن ایک چیز قابل غور تھی کہ اس قافلے میں زیادہ تر ٹیکنیکل لوگ تھے کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ کمپیوٹر پر اردو کی سہولت شامل کرنے کا طریقہ تھوڑا لمبا اور مشکل ہے اس وجہ سے عام کمپیوٹر صارف کو مشکلات کا سامنا ہے اور وہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو لکھنے میں دقت محسوس کرتے ہیں بلکہ کئی لوگ تو مشکل کی وجہ سے بھاگ ہی جاتے ہیں ان مشکلات کو دور کرنے اور اردو کی زیادہ سے زیادہ ترویج کے لئے ایم بلال ایم نے 2011ء4 میں پاک اردو انسٹالر کے نام سے ایک ایسا سافٹ ویئر بنایا جس کے ذریعے، صرف چند کلک سے کمپیوٹر پر اردو کے متعلق تمام سہولیات خودبخود شامل ہو جاتی ہیں۔ پاک اْردو انسٹالر کمپیوٹر اور انٹر نیٹ پر اْردو لکھنے کے لئے ایک مْفت سافٹ وئیر ہے۔ اس سافٹ وئیر کے خالق ایم بلال ہیں۔ پاک اردو انسٹالر ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کے لئے ہے۔ پاک اردو انسٹالر انسٹال کرنے کے بعد کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر جس جگہ کچھ لکھا جا سکتا ہے وہاں پر جدید تقاضوں کے مطابق اردو بھی لکھی جا سکتی ہے اور اردو بہتر انداز میں پڑھنے کے لئے اردو کے چند ضروری فانٹس خودبخود انسٹال ہو جاتے ہیں۔
اردو کی ترویج کے لئے آج کے جدید ہتھیار انٹرنیٹ کو اپنائیے اور زیادہ سے زیادہ معلومات انٹرنیٹ پر ڈالنے کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کو بھی اردو کی طرف قائل کریں۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں آج ان گنت یونیکوڈ اردو فورمز اور ویب سائٹس وجود میں آئی ہیں۔اور اردو کے چاہنے والوں کے لیے ایک بہت بڑا ذخیرہ ان ویب سائٹس پر جمع کر دیا گیا ہے لیکن پوری دیانت داری سے جائزہ لیا جائے تو وطن عزیز ہندوستان سے اس سمت میں پیش رفت بہت سست رہی ہے۔ جو ویب سائٹس موجود ہیں وہ اپنے تصویری فارمیٹ کی وجہ سے اردو داں طبقہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ لیکن بعض فکر مند احباب ایک عرصہ سے یونیکوڈ اردو کی ہندوستان میں ترویج و ترقی کے لیے کوشاں ہیں تاکہ زمانہ کی رفتار کے ساتھ ہماری زبان بھی ترقی کر سکے۔ الحمدللہ وقت کی رفتار کو دیکھ کر بہت ساری ویب سائٹس اب یونیکوڈ فار میٹ میں بھی نظر آنے لگی ہیں۔ کچھ اخبارات نے بھی اپنے یونیکوڈ ایڈیشن شروع کیے ہیں جو انتہائی قابل مبارکباد عمل ہے۔
آج کل سوشل ویب سائٹس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اور خواص و عوام ان ویب سائٹ سے جڑے ہوئے ہیں لیکن ان سوشل ویب سائٹس پر بڑھتی ہوئی بے حیائی اور فحاشی سے سلیم الفطرت نفوس کافی پریشان کہ ان کے اثرات سے ہماری نسلوں کی حفاظت کیسے ہو، ہماری لسانی تہذیبی اور ثقافتی قدروں کی کس طرح حفاظت کی جائے؟ اس بات کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اردو طبقے کا اپنا کوئی سوشل نیٹورکنگ پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے۔ اسی ضرورت کی تکمیل کے طور پر حیدر آباد سے اعجاز عبید اور منماڑ سے ڈاکٹر سیف قاضی نے اپنی مشترکہ کوششوں سے اردو کو خواص سے نکال کر عوامی سطح پر لانے ، اردو رسم الخط کی ترویج و ترقی ، صالح اقدار کے فروغ اور مثبت سماجی روابط کی برقراری کے لیے اردو داں طبقے کی خاطر بزم اردو ڈاٹ نیٹ نام سے ایک غیر منفعتی اردو سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹ کا آغاز کیا ہے۔الحمدللہ یہ ویب سائٹ بھی محبان اردو کی اجتماع ثابت ہو رہی ہے اور عوام و خواص یہاں پر شامل ہو کر اپنے ذوق کی تکمیل کر رہے ہیں۔
آج کی دنیا کے جدید ہتھیاروں میں ایک بلاگ بھی ہے اردو میں بلاگ لکھئے ،فیس بک اور ٹوئیٹر پر اردو لکھیں بزم اردو میں اردو داں احباب سے دوستی کریں اور اردو میں اپنا پیغام اور آواز سب تک پہنچا دیجئے۔ لیکن ان ویب سائٹس پر اردو تحریر کرنے کے لیے آپ کے کمپیوٹر کو اردو پڑھنے اور لکھنے کے لائق بنانے کی ضرورت پیش آئے گی۔ اس کے لیے آپ کو کسی مخصوص کی بورڈ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ محض پاک اردو انسٹالر کی تنصیب کے ساتھ آپ کا کمپیوٹر ونڈو کی اپلیکیشنس اور دیگر ویب سائٹس پر اردو تحریر کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ پاک اردو انسٹالر حاصل
کرنے کے لیے www.mbilalm.com  پر تشریف لے جائیں۔