منگل، 27 اگست، 2013

عین دوپہر کے وقت شہر کلکتہ اندھیرے میں ڈوب گیا



27 اگست  

یہ تصویر ہندوستان کے شہر کلکتہ کی  ہے جب اچانک دوپہر دو بجے پورے شہر میں انتہائی خطرنا ک کالے بادل کی وجہ سے اندھیرا چھا گیا۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ بادل 50 لو میٹر لمبا اور 12 کلو میٹر چوڑا تھا۔ ہندوستان میں بادل پھٹنے ی وجہ سے اترا کھنڈ اور وادی کشمیر میں بھاری تباہی پھیلی تھی۔ اس طرح کے بادل اور اچانک اندھیرے سے شہریوں 
میں کافی بے چینی پھیل گئی تھی لیکن کچھ دیر کے بعد آسمان صاف ہو گیا۔


بدھ، 31 جولائی، 2013

محی الدین احمد ابوالکلام آزاد کی سیاسی بصیرت: تاریخ کی بے رحم کسوٹی پر

محی الدین احمد ابوالکلام آزاد کی سیاسی بصیرت: تاریخ کی بے رحم کسوٹی پر 
تحریر : ع۔ ح۔ شفیع لیثی
-----------------------
محی الدین احمدابوالکلام آزاد بر صغیر کی تاریخ کا وہ نفیس کردار ہے جو کسی تعارف کا محتاج نہیں، آپ غیرمنقسم ہندوستان کی عظیم اور مقتدر شخصیتوں میں سے ایک تھے اور یقینا علم وفراست کے امام تھے۔ آپ کوسماج، معاشرہ، زبان کلام بیان مذہب بین المذاہبی تقابلات اور سیاست کے پیچ و خم پر عبور حاصل تھا۔ آپ نے قرآن کی تفسیر لکھی، مذہب کو جانچا،آباء کی دیرینہ رسومات کو ترک کیا،سیاست کے دشت میں آبلہ پائی کی،اصول و نظریات کو نیا اور معتبر لب و لہجہ دیا ، سیاسی بصیرت کے مفاہیم کو نئی روشنی دی اور خود ساختہ قائدین ملت کے اجتماعی سیاسی شعورکو بونا کردیا۔یقینا یہ متحدہ بھارت کا عظیم سرمایہ تھا جسے نفس پرست سیاست داں سمجھ نہ سکے اور آج نصف صدی سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود بھی ان کے ویژن،حالات کی نبض شناشی اور ان کی عظیم سیاسی بصیرت پر ہم جیسے طالب علم انھیں خراج عقیدت پیش کرنے پر مجبور ہیں۔ مولانا بیک وقت عمدہ انشا پرداز، جادو بیان خطیب، بے مثال صحافی اور ایک بہترین مفسر تھے۔ ابوالکلام آزاد ہرلحاظ سے جامع شخصیت کے مالک تھے ان پر انگریزی لفظ Polymath پورا اترتا ہے جس میدان میں قدم رکھا اپنی شخصیت علم اور ثابت قدمی کی وجہ سے کامیابی کی منزلیں چھولیں اپنوں نے دھتکاراگالیاں دیں لیکن انھوں نے ہمیشہ مہذب لہجے میں کلام کیا اور ادب ولحاظ کی حدود کی پاسداری کی ان پر علامہ اقبال کا یہ شعرپورا اترتا ہے #
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ورپیدا
مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ ملت اسلامیہ ہند کا روشن چراغ ہیں جس کی روشنی بصیرت و بصارت کو جلا دیتی ہے۔
ابو الکلام آزاد علم دوست ،حریت پسند اور قوم پرست مسلمان رہنما تھے۔ زندگی کا سفر 1888میں شروع ہوا۔ عملی زندگی کا آغاز1904سے شروع ہوا ۔ 1923، 1930 اور 1939میں آل انڈیا نیشنل کانگریس کے قائم مقام صدر مقرر کیے گئے۔ 1940 میں کانگریس کے(دوبارہ۔ابن کلیم)صدر منتخب ہوئے اورمسلسل 1946 تک ہندوستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ رہے۔ صحافت میں ہفتہ وارالہلال( 1912)اور ہفتہ وارالبلاغ(1915) جاری کیا جو اردو صحافت کی تاریخ میں نئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ خطیب تھے تو بے مثل۔ رولٹ ایکٹ کے خلاف کراچی کی ایک عدالت میں جو بیان دیا، وہ قول فیصل کے نام سے لوح تاریخ پہ ثبت ہے۔ قلم اٹھایا تو اردو نثر کے شاہکار غبار خاطر اور تذکرہ ان کی تراوش فکر کی بلندیوں کے معمولی نمونے بنے۔ صحافت کی دنیا کی سیر کرنے پہ آیا تو بڑے بڑے صحافی اس کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرتے نظر آئے، علم قاموسی اور بیان کی فصاحت ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گئی ۔ دینی علوم کی غواصی کی تو تفسیر قرآن میں ایسے موتی دریافت کیے جن کی آپ اہل علم کے لیے کحل جواہر قرار پائی۔ سیرت النبی پربولنے اور لکھنے پر آیا تو بڑے بڑے سیرت نگارحیرت میں پڑگئے ۔ مولانا آزاد بیس برس کی عمر میں آزادی کی تحریک میں شامل ہوئے۔ قید و بند کا سلسلہ رانچی بہار سے شروع ہوااور قلعہ احمد نگر میں 1945میں ختم ہوا۔ کل 68برس اور سات ماہ۔ اس میں 9برس اور 8ماہ انگریز کی قید کاٹی۔ گویا عمر عزیز کا ہر ساتواں روز جیل میں کٹا۔
اب جسے مولانا ابو الکلام آزاد کی سیاسی بصیرت میں شک ہو وہ غیر جانب داری کے ساتھ ملک کی تاریخ کامطالعہ کرلے کہ اس وقت ملک کے حالات کیا تھے ؟کس دباوٴ کا سامنا تھا؟مسلمانوں کی کیفیت کیا تھی؟ یقینا مولا نا آزاد کے بارے میں اس کی رائے بدل جائے گی۔ ”انڈیا ونس فریڈم“پرایک نظر ڈالیے تعجب ہوتا ہے ۔ اور یہ ماننا پڑتا ہے کہ علامہ آزاد کی سیاسی بصیرت کے تذکرہ کے بغیرملک کی جنگ آزادی کی تاریخ کا تذکرہ بے معنی ہو جائے گا۔۔ نہرو ہوں یا پٹیل ،گاندھی ہوں یا جناح مولانا کی رائے کا اعتبار تسلیم شدہ امر تھا۔ نپی تلی بات لیکن کوئی ایک لفظ شرافت اور شائستگی سے گرا ہوا نہیں۔ کوئی ایک جملہ نہیں جو سچائی ، توازن اور حقیقت سے خالی ہو۔ سچ پوچھئے تو مولانا نے اس تصنیف میں جسے آزادی ہند کے بنیادی ماخذ میں سرفہرست شمار کیا جاسکتا ہے ، سب سے کڑا احتساب خو د اپنی ذات کا کیا ہے حالانکہ احتساب ایک کڑا اور کڑوا عمل ہے۔
مولانا کے نقطہ نظر سے سیاسی مکالمے کی معروف روایت میں اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے اوراس پر بھی بات ہو سکتی ہے کہ مولانا آزاد عملی سیاست کے جوڑ توڑ سے ماورا تھے یا نہیں؟ تاہم مولانا کی سیاسی بصیرت، شرافت، بلند نگاہی، علمی حیثیت، وضع داری اور خودداری پر کوئی سوال اٹھایا ہی نہیں جاسکتا۔ محمد علی جناح کے سیاسی کیرئیر پر یہ ایک بدنما نشان ہے کہ مفادات کی بساط پرکھیلے جارہے سیاسی کھیل میں مسلم لیگ کی مذہبی شناخت کو اجاگر کرنے کے لیے جب انھوں نے کانگریس کو ہندو جماعت قرار دینا چاہا تو محی الدین ابو الکلام آزاد کو کانگریس کا ”شوبوائے“ قرار دے دیا۔جبکہ مولانا کو اس قسم کے حملوں کا جواب دینے کی عادت تھی اور نہ ہی مولانا آزاد اسے ضروری سمجھتے تھے۔ معاملہ ویژن اور شعور کا تھالیکن اس کے برخلاف مولانا نے اپنی تصنیف میں حیران کن طور پر محمد علی جناح کا ایک سے زیادہ مقامات پر نہ صرف یہ کہ تذکرہ کیا بلکہ متعدد امور و معاملات میں ان کے نقطہ نظر کو مسترد کرنے کے لیے معقول لب ولہجہ اختیار کیا اوراصول وعقلیت کے معیار کا پورا لحاظ رکھا ہے۔
مسلم لیگ کی قیادت نے متحدہ بھارت میں جس خود غود غرض سیاسی ثقافت کو آگے بڑھایااور فکری تنگ نظری کے حصار میں بند ہوکر یہ لوگ جس طرح ملک کی تقسیم میں برطانیہ اور ان کے رفقاء کے نظریاتی المیہ اور مفادات کی جنگ کا ہراول دستہ بنے اس المیہ پرمولانا آزاد کی دوررس نگاہوں نے حالات کی سنگینی کووقت سے پہلے محسوس کرلیا تھا۔ سچ یہ ہے کہ مولانا کی سیاسی بصیرت ان بد ترین مضمرات کو دیکھ رہی تھی جوقومیت کی بنیاد پرالگ ملک کے قیام سے پیدا ہونے والے تھے اور یہ مولانا آزاد کی سیاسی بصیرت ہی تھی کہ دو قومی نظریہ اور قیام پاکستان کو انھوں نے قطعیت کے ساتھ مسترد کردیا تھا۔ اب یہ ملک و ملت کی بدقسمتی تھی کہ حالات کے تباہ کن جبرنے بر صغیر کی تاریخ اور جغرافیہ کو بدل ڈالا، بدقسمتی سے ملک تقسیم ہوگیا۔ مسلم لیگ اور مسلم سیاست کا کمزورویژن تاریخ کے صفحات پرمحفوظ ہوگیااورمولانا مرحوم کی سیاسی بصیرت اور زمینی سچائیوں کی امید افزا پکار صدا بہ صحرا ثابت ہوئی۔ لیکن کیا مولانا آزاد ناکام ہو گئے تھے؟
قیام پاکستان سے تقریبا سوا سال قبل اپریل 1946 جریدہ چٹان میں قیام پاکستان کو لے کر مولانا نے کچھ پیشین گوئیاں کی تھیں،یہ انٹرویو شورش کاشمیری نے لیا تھا۔ انٹرویو کے اقتباسات درج ذیل ہیں:
1۔ کئی مسلم ممالک کی طرح پاکستان کی نااہل سیاسی قیادت فوجی آمروں کی راہ ہموار کرے گی۔
2۔ بیرونی قرضوں کا بھاری بوجھ ہوگا۔
3۔ پڑوسیوں سے دوستانہ تعلقات کا فقدان ہوگا اور جنگ کے امکانات ہوں گے ۔
4۔ داخلی شورش اور علاقائی تنازعات ہوں گے۔
5۔ پاکستان کے صنعتکاروں اور نودلتیوں کے ہاتھوں قومی دولت کی لوٹ مار ہوگی۔
6۔ نودلتیوں کے استحصال کے نتیجے میں طبقاتی جنگ کا تصور پیدا ہوگا۔
7۔ نوجوانوں کی مذہب سے دوری،عدم اطمینان اور نظریہ پاکستان کا خاتمہ ہوجائے گا۔
8۔ پاکستان پر کنٹرول کرنے کے لیے عالمی طاقتوں کی سازشیں بڑھیں گی۔
مارچ2012تقریباً 65 سال بعد پاکستان جیوٹی وی کے پاکستانی اینکرکامران خان لائیو ٹیلی ویژن شو میں پاکستان کے تئیں مولانا آزاد کے خدشات کی سچائیوں پر تفصیل سے گفتگو کرتے نظرآئے ۔یعنی وہ لوگ جو دو قومی نظریہ کی چمک میں عقل و خرد کی منزلیں پار کر گئے تھے، جن کی نظروں میں مولانا آزاد کا متحدہ قومیت کا سیاسی نظریہ ناقابل معافی جرم تھا اور جو لوگ مسلسل مولانا آزاد کے ساتھ قومی مجرم جیسا سلوک کرتے رہے ہیں وہی آ ج مولانا آزاد کی سیاسی بصیرت کو سلام کرتے نظر آرہے ہیں۔اس پروگرام کی تفصیل کے لیے دیکھئے یو ٹیوب :
"Kamran Khan of GEO analysing today's Pakistan in context of Maulana Azad speech"
مولانا آزاد کی سیاسی بصیرت کا ہی کمال تھا جونہ صرف نظریہ پاکستان کے خالقین کے تصوراتی مملکت کے خد وخال پر ان کی گہری نگاہ تھی بلکہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اس وقت بھی سارا منظر اور پس منظر ماضی ، حال اور مستقبل کی جزئیات اور تفصیل کے ساتھ مولانا کی دور رس نگاہوں کے سامنے موجود تھا۔ یہ مولانا آزاد کی سیاسی بصیرت ہی تھی جو قومیت کی بنیاد پر ملک کی تقسیم کے بھیانک مضمرات محسوس کررہی تھی اور مولانا آزاد کی دوربیں نگاہیں حالات کے دونوں پہلووں کو دیکھ رہی تھیں۔ اکتوبر 1947میں جامع مسجد دہلی میں مسلمانوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد نے خبردارکیا تھا کہ:
میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ تم حاکمانہ اقتدار کے مدرسے سے وفاداری کی سرٹیفکٹ حاصل کرو اور کاسہ لیسی کی وہی زندگی اختیار کرو جو غیر ملکی حاکموں کے عہد میں تمہارا شعار رہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جو اجلے نقش ونگار تمھیں اس ہندوستان میں ماضی کی یاد گار کے طور پر نظر آرہے ہیں وہ تمہارا ہی قافلہ تھا، انھیں بھلاوٴ نہیں ،انھیں چھوڑ و نہیں، ان کے وارث بن کر رہو او رسمجھ لو کہ اگر تم بھاگنے کے لیے تیار نہیں تو پھر تمھیں کوئی طاقت بھگا نہیں سکتی۔ آوٴ عہد کرو کہ یہ ملک ہمارا ہے۔ ہم اس کے لیے ہیں او را س کی تقدیر کے بنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھورے ہی رہیں گے۔
یوپی سے پاکستان جانے والے ایک گروہ سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا تھا:
آپ مادر وطن چھوڑ کر جارہے ہیں آپ نے سوچا اس کا انجام کیا ہوگا؟ آپ کے اس طرح فرار ہوتے رہنے سے ہندوستان میں بسنے والے مسلمان کمزور ہوجائیں گے اور ایک وقت ایسابھی آسکتا ہے جب پاکستان کے علاقائی باشندے اپنی اپنی جدا گانہ حیثیتوں کا دعویٰ لے کر اٹھ کھڑے ہوں۔ بنگالی، پنجابی، سندھ، بلوچ اور پٹھان خود کو مستقل قومیں قرار دینے لگیں۔ کیا اس وقت آپ کی پوزیشن پاکستان میں بن بلائے مہمان کی طرح نازک اور بے کسی کی نہیں رہ جائے گی؟ ہندو آپ کامذہبی مخالف تو ہوسکتا ہے ،قومی مخالف نہیں۔ آپ اس صورت حال سے نمٹ سکتے ہیں مگر پاکستان میں آپ کو کسی وقت بھی قومی اوروطنی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑجائے گا جس کے آگے آپ بے بس ہوجائیں گے۔
یہ کوئی جذباتی اپیل نہیں تھی نہ ہی کوئی نظریاتی تقریر تھی یہاں مولانا کی سیاسی بصیرت کا نقطہ عروج بول رہا تھا اور آپ کی سیاسی بصیرت مستقبل میں جھانک رہی تھی۔ جبکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ ایک ایسے دانشور تھے جس کی نگاہِ دور رس نے بھانپ لیا تھا کہ ملک کی تقسیم کسی طرح بھی مسلمانوں کے لیے سودمند نہ ہوگی۔ اگر ملک کا بٹوارہ ہوا تو مسلمان ہندوستان میں نہ صرف ایک کمزور اقلیت بن کر رہ جائیں گے بلکہ اکثریت کے رحم وکرم پر زندگی گزاریں گے یہ کوئی بے معنی خوف نہیں تھا۔ اول تا آخر حالات شاہد ہیں کہ تقسیم کی بابت مولانا آزاد کا انتباہ بالکل درست تھا ۔ مولانا نےIndia wins Freedomمیں لکھا:
میں نے مسلم لیگ کی پاکستا نی اسکیم پر ہر زاویے سے غور کیا تو میں نے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ تقسیم ملک کے لیے اور بالخصوص مسلمانوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے کیوں کہ اس سے مسائل ختم ہونے کے بجائے مزیدپیدا ہوجائیں گے۔
مولانا نے رام گڑھ کے کانگریس کے ایک اہم اجلاس میں جو وقیع خطبہ دیا تھا آئیے ذرا اس کے ایک پیراگراف پر نظر ڈالتے ہیں:
میں مسلمان ہو ں اور فخر کے ساتھ محسوس کرتاہوں کہ مسلمان ہوں، اسلام کے تیرہ سو برس کی شان دارر وایتیں میرے وِرثے میں آئی ہیں ، میں تیار نہیں ہوں کہ اس کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی ضائع ہونے دوں، اسلام کی تعلیم ،اسلام کی تاریخ ،اسلام کے علوم و فنون،اسلام کی تہذیب میری دولت کا سرمایہ ہے اور میرا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کروں،بہ حیثیت مسلمان ہونے کے میں مذہبی اور کلچرل دائرے میں اپنی خاص ہستی رکھتاہوں اور میں برداشت نہیں کر سکتا کہ اس میں کوئی مداخلت کرے ،لیکن ان تمام احساسات کے ساتھ میں ایک اور احساس بھی رکھتاہوں جسے میری زندگی کی حقیقتوں نے پیدا کیا،اسلام کی روح مجھے اس سے نہیں روکتی،بلکہ وہ اس راہ میں میری رہنمائی کرتی ہے ،میں فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ میں ہندوستانی ہوں،میں ہندوستان کی ایک ناقابل تقسیم متحدہ قومیت کا ایک عنصر ہوں،میں اس متحدہ قومیت کا ایک ایسا عنصر ہوں جس کے بغیر اس کی عظمت کا ہیکل ادھورا رہ جاتا ہے ،میں اس کی تکوین کا ایک ناگزیر عامل فیکٹر ہوں ،میں اس دعوے سے کبھی دست بردار نہیں ہو سکتا۔ ہم تو اپنے ساتھ کچھ ذخیرے لائے تھے ،اور یہ سر زمین بھی ذخیروں سے مالا مال تھی، ہم نے اپنی دولت اس کے حوالے کردی اور اس نے اپنے خزانوں کے دروازے ہم پر کھول دیے ،ہم نے اسے اسلام کے ذخیرے کی وہ سب سے زیادہ قیمتی چیز دے دی جس کی اسے سب سے زیادہ ضرورت تھی،ہم نے اسے جمہوریت اور انسانی مساوات کا پیام پہنچادیا۔
مولانا آزاد کی سیاسی بصیرت کو سلام کیا جانا چاہیے کہ سا نحہ تقسیم کے باوجود بھی بڑی حد تک ملک سیکولر زم کی راہ پر گامزن رہااور اس کا سہرا بڑی حد تک مولانا کے سر جاتا ہے۔ مولانا کی قیادت، ان کے تدبر، ان کی شخصیت میں مرکوز ہندوستانی امتزاج ، سیکولرزم کے لیے ان کی جہد مسلسل اور ان کی مشترکہ تہذیب کی زندہ جاوید علامت ہونے کی بدولت ہی ہندوستان سیکو لر بنا رہا اور ملک کے مسلمانوں کی خوش قسمتی ہے کہ مولانا آزاد جیسی شخصیت نے ان کی رہنمائی کی ۔لیکن المیہ یہ ہے کہ ہندوستانی قومی تحریک کے عظیم رہنماوٴں میں مولانا آزاد کی تعلیمات کو محض ادھورا سمجھا گیا ہے اور عوام کی اکثریت کے سامنے ان کی حیثیت بس ایک قوم پرست مسلم رہنما کی ہے۔ مولانا آزاد رحمہ اللہ کی قومی تحریک ایک جذباتی یادگار،نشانی اوربھولی بسری وراثت کے طور پر باقی رہ گئی ہے جس کی عزت تو کی جاتی ہے مگر اسے واضح اور تنقیدی طور پر سمجھنے کا احساس نہیں ہوتا جبکہ مولانا آزاد پوری زندگی سیکولرزم کی نمائندگی کرتے رہے۔ سیاسی بصیرت کے نقطہ کمال پر فائز آزاد کے خوابوں کا بھارت ایک مضبوط خود اعتمادی سے معمور سیکولر بھارت تھا:”دنیا کو ہمارے ارادوں کے بارے میں شک رہا ہو مگر ہمیں اپنے فیصلوں کے بارے میں شک نہیں گزرا۔ وقت کا کوئی الجھاوٴ، حالات کا کوئی اتار چڑھاوٴ اور معاملوں کی کوئی چبھن ہمارے قدموں کا رخ نہیں بدل سکتی“… امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد۔
 
علامہ شورش کاشمیری کے ان اشعار کے ساتھ جو انھوں نے 10 مارچ 1858 مولانا آزاد کے مزار پر لکھاتھا:
کئی دماغوں کا ایک انساں میں سوچتا ہوں کہاں گیا ہے
قلم کی عظمت اجڑ گئی ہے زباں سے زور بیاں گیا ہے
اتر گئے منزلوں کے چہرے، امیر کیا؟ کارواں گیا ہے
مگر تیری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
 
یہ کون اٹھا کہ دیر وکعبہ شکستہ دل، خستہ گام پہنچے
جھکا کے اپنے دلوں کے پرچم خواص پہنچے عوام پہنچے
تیری لحد پہ ہو رب کی رحمت،تیری لحد کو سلام پہنچے

مگر تیری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے 

بشکریہ فری لانسر ممبئی

ہفتہ، 13 جولائی، 2013

تحفہ رمضان

یاران بزم
رمضان المبارک کا ایک خاص تحفہ لے کر حاضرخدمت ہوں۔رمضان المبارک   میں قرآن کریم سے ہمارا شغف بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے لیکن  جو لوگ  بحالت مجبوری اکثر آن لائن ہوتے ہیں  وہ تلاوت سے محروم رہتے ہیں۔ایسے احباب کے لیے قرآن فلیاش ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ نے  ایک بہترین ٹول تیار کیا ہے جس سے قرآن کریم کی انٹرنیٹ کے ذریعے تلاوت بہت آسان ہوجاتی ہے۔
جو احباب روانی کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرنا چاہتے ہوں وہ  یہاں کلک کریں۔
آیات قرآنی پر نظر رکھتے ہوئے اپنے  محبوب قاری کی آواز میں قرآن سننے ،  ترجمہ  اور دوسری بہت ساری سہولتوں کے لیے یہاں کلک کریں۔
طالب دعا
سیف


ہفتہ، 6 جولائی، 2013

اردو کی اینگلو انڈین شاعرات

اردو کی اینگلو انڈین شاعرات

( یہ مضمون میں ہما کے اردو نمبر سے نقل کر رہا ہوں جو اپریل 1972 میں منظرعام پر آیا تھا۔ مین نے پورا مضمون جوں کا 
توں نقل کرنے کی کوشش کی ہے کاتب کی غلطی سے اگر اشعار ساقط الوزن ہوں تو مجھے معذور سمجھا جائے۔)

اردو زبان کی ترقی   وتریج میں ہندوؤں ، مسلمانوں اور سکھوں ہی کا نہیں بلکہ عیسائیوں کا بھی حصہ ہے اگرچہ اس دور میں اردو کے عیسائی شاعر اور ادیب بہت کم نظر آتے ہیں۔ مگر اب سے   70- 80 برس قبل  نہ صرف عیسائی یا اینگلو انڈین یورپین مرد ہی ارد وشاعری کے میدان میں موجود تھے بلکہ خواتین بھی تھیں۔ چنانچہ ان میں سے بعض مشہور خواتین کا مطبوعہ کلام بھی ملتا ہے ان میں سے چند شاعرات کا حال درج ذیل ہے۔
ملکہ جان ملکہؔ
ملکہ جان ایک آرمینی خاتون تھی اپنے زمانہ کی ایک بہترین رقاصہ اور موسیقار ۔۔ کلکتہ میں مقیم تھی  اور " مخزن الفت ملکہ" کے نام سے اس نے اپنا دیوان بھی شائع کیا تھا ۔ یہ دیوان  محمد  وزیر ، مالک این پریس نے شائع کیا تھا۔ یہ دیوان  108 صفحات پر مشتمل ہے ار اس میں  106 غزلیں ہیں ، اس میں گیت ٹھمریاں وغیرہ بھی شامل ہیں۔ ملکہ شاعری میں حکیم بانو صاحب ہلال کی شاگرد تھیں۔ مشاعروں میں بھی شرکت کرتی تھیں اور اپنے یہاں بھی مشاعرے منعقد کرتی تھیں۔ چنانچہ اس سلسلے میں وہ کہتی ہیں
مملو ہے آج بزم سخن موج شعر سے
ملکہ ہے جش رحمت پرردگار کے
ملکہ  و ہ مجمع شعراء اور لطف شعر
قربان میں عنایت پروردگار کے
ملکہ کے دیوان کی ایک جلد برطانیہ کے عجائب گھر میں رکھی ہوئی ہے۔ حمد میں کہتی ہیں ،
دیکھا جسے وہ شاغلِ حمدِ غفور ہے
نغمہ یہی سنا ہے چمن مین ہزار کا
ملکہ ہے جس کے ورد زبں نام کبریا
صدمہ نہ ہوگا اس کو لحد کے فشار کا
غزل کے چند مختلف اشعار یہ ہے
اپنی حیرت کی کوئی شکل بنالوں تو کہوں
سامنے آئینہ سازوں کو بٹھا لوں توکہوں
دلِ صد چاک پہ ائے جان جہاں فرقت میں
کیا گزرتی ہے ذرا ہوش میں آ لوں تو کہوں
مختلف اشعار
کیا جفا و ظلم کا ملکہ ترے شکوہ کریں
جو کیا جان جہاں بہتر کیا اچھا کیا
جگر ملکہ کا اور فرقت کے صدمے
خط تقدیر میں یونہی لکھا تھا
ملکہ اسی طرح جو تصور بندھا رہا
ہوگی نصیب ان کی زیارت تمام رات



سوموار، 13 مئی، 2013

آپکا موبائل نمبر اب ذاتی نہیں رہا!


آپکا موبائل نمبر اب ذاتی نہیں رہا!
 سیف قاضی
جی ہاں صرف آپکا اپنا نمبر نہیں بلکہ ہندوستان کے وزرائ، صنعت کار ، فلمی شخصیات اور یہاں تک کہ خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ عہدہ داران تک کہ نمبر اب ذاتی نہیں رہے ہیں۔ کچھ دنوں قبل ہمارے ایک دوست نے ایک اینڈرائڈ ایپ کے بارے میں بتایا کہ یہ ایپ ایسی ہے جو بتا دیتی ہے کہ آنے والا نمبر کس شخص کے نام سے رجسٹرڈ ہے۔ ہمیں ان کی بات پر بالکل یقین نہیں ہوا۔اور ہوتا بھی کیسے۔ ہماری معلومات کے مطابق انڈیا میں موبائل فونس کی پبلک ڈائرکٹری سرے سے 
موجود ہی نہیں ہے اور ایسا کرنا حکومتی قوانین کے خلاف بھی ہے۔

 لیکن وہ اپنی بات پر بضد رہے کہ ایسے ایپ موجود ہیں۔ ہم نے فوراً گوگل پلے سے " ٹرو کالر " نامی اس ایپ کو ڈھونڈ کر ڈاونلوڈ کیا جس کے بارے میں یہ بتایا جا رہا تھا کہ یہ آپ کو نمبر کے ساتھ نام بھی بتا دیتا ہے۔ انسٹال کرنے کے بعد جب ہم نے اس کا استعمال کیا او ر متفرق دوستوں کے نمبر تلاش کیے تو بالکل ان دوستوں کے نام نظر آنے لگے۔ ہم فوراً True Caller کی ویب سائٹ پر پہنچے اور حقیقت جاننے کی کوشش کی کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے۔ تھوڑی دیر بعد یہ پتا چلا کہ یہ ایپ آپ کے فون بک سے تمام نمبر لے لیتا ہے ۔یہ نمبر نام اور ٹیلی کام سرکل کے ایڈریس کے ساتھ اس ایپ کے سرور پر محفوظ کر دیے جاتے ہیں اور جب بھی کوئی نمبر اس سے تلاش کریں تو اس کی معلومات ٹرو کالر کے سرور سے فوراً آپ کے موبائل فون پر دستیاب ہو جاتی ہے۔
کچھ اور سرچ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ ہندوستان اس سویڈش کمپنی کے ایپ کا سب سے بڑا مارکیٹ ہے اور اس کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگا یا جا سکتا ہے کہ اس ایپ کی ابھی تک گوگل پلے میں 85،787 ریٹنگس کی گئی ہے۔ اور اس کے انسٹال کرنے والے یوزرس کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ اس ایپ کو انسٹال کرنے کے بعد اگر یوزر " Enhanced Search " متبادل منتخب کرتاہو تو یوزر کی فون بک کے تمام نمبر ٹرو کالر کے سرور پر درج ہو جاتے ہیں۔ اندازہ لگائیے کہ اوسط ایک فون بک میں 150 نمبر محفوظ ہوتے ہیں ،اگر ایک کروڑ صارفین نے اپنے فون بک کے نمبر اس ایپ کے ساتھ شیئر کیے ہیں تو اس ایپ کے سرور پر کتنے لوگوں کے نام ان کے موبائل نمبر اور ایڈریس کے ساتھ جمع ہو گئے ہوں گے۔ ہماری فون بک کی ایک خاص بات یہ ہوتی ہے کہ ہم یاد رکھنے کے لیے نام کے ساتھ دوستوں کے کام کے تعلق سے بھی کوئی نوٹ ،نک نیم یا کوئی خاص شناخت درج کر دیتے ہیں،تاکہ سرچ کرنے اور ڈھونڈنے میں آسانی ہو ۔ جیسے " پرویز ڈاکٹر " ، " عارف بلڈر " ، وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح اس کمپنی کے پاس صرف نام اور نمبر نہیں بلکہ کام کی تفصیلات بھی جمع ہوتی جا رہی ہے جو ایک پریشان کن بات ہے۔
فی الحال یہ کمپنی مفت میں نمبر کے ذریعے نام تلاش کرنے کی اجازت دیتی ہے لیکن اگر آپ اس کے کریڈت خرید تے ہیں تو یہ آپ کو نام کے ذریعے بھی نمبر تلاش کرنے کی اجازت دیتی ہے اور یہ اس ایپ کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر فون ڈائرکٹری سے اپنا نمبر خارج کرنے کے لیے unlist کا متبادل بھی رکھا ہے ۔لیکن کسی شخص کی 
اجازت کے بغیر اس کے نمبر کو عام کر دینا یہ کسی بھی صورت میں قابل قبول بات نہیں ہے۔

یہاں پر یہ بات بھی واضح کر دینے کی ہے کہ اس سلسلہ کی یہ محض ایک ایپ نہیں ہے بلکہ انٹرنیٹ کی دنیا میں ایسے سیکڑوں ایپ اور ویب سائٹ موجود ہیں جو ایسی معلومات فراہم کر رہی ہیں جس کے بارے میںعام افراد کو تو خیر خواص کو بھی کچھ معلوم نہیںہے اور وہ ڈھکے چھپے انداز میںہماری پرسنل انفارمیشن جمع کر رہی ہیں۔ نیٹ کالنگ کے لیے مشہور ایپلی کیشن وائبر سے متعلق بھی اس طرح کے بہت سارے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔اس پر کاروائی کرنا اشد ضروری ہے کہ یہ معلومات کا ذریعہ نہیں بلکہ رازوں کو چرانے کا ایک خوبصورت اور موثر طریقہ ہے ،جس سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا یا جا سکتاہے ۔یہ حکومتوں اور دفاعی اداروں کے لئے بھی کم خطرناک نہیں ہے کہ نا جانے اس کے ذریعہ کون سی معلومات کب اچک لی جائے ،اور کب کس کو کو ٹارگیٹ بنا لیں ۔اسلئے اس بابت حکومتوں اور اداروں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فورا ًاس پر کاروائی کریں ۔اور عام لوگوں کے علاوہ ملک کے تحفظ کو بھی یقینی بنائیں ۔


سوموار، 1 اپریل، 2013

اپریل فول اوراسلام


بزم اردو کے قابل احترام رکن اور بصیرت آن لائن کے ایڈیٹر جناب غفران ساجد قاسمی کی یہ تحریر آج 'اخبار مشرق کلکتہ میں شائع ہوئی تھی۔ چونکہ ہمارے اخبارات تصویوری شکل میں شائع ہوتے ہیں اور اس کی وجہ سے اہم مضامین بھی کہیں دفن ہو جاتے ہیں اس لیے میں نے قاسمی صاحب سے درخواست کی کہ مضمون کی ان پیج یا ورڈ فائل مجھے ارسال فرمائیں تاکہ اس مضمون کو محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ مضمون یہاں پوسٹ کر رہا ہوں امید کرتا ہوں اراکین بزم اس تحریر کو پسند کریں گے۔

اپریل فول اوراسلام
                                                                                                              غفران ساجدقاسمی
  چیف ایڈیٹر:  بصیرت آن لائن ڈاٹ کام،ریاض،سعودی عرب

جھوٹ،فریب،دغابازی اوردھوکہ دہی کی ممانعت صرف مذہب اسلام میںہی نہیں بلکہ دنیاکے تمام مذاہب میں موجودہے،اتناہی نہیں دنیاوی قانون بھی ایسے شخص کو مجرم گردانتی ہے جوان افعال قبیحہ کامرتکب پایاجاتاہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کی برائی بیان کرتے ہوئے بہت صاف اورصریح لفظوںمیں فرمایا:’’الصدق ینجی والکذب یہلک‘‘(الحدیث)،کہ سچائی انسان کونجات دلاتی ہے اورجھوٹ انسان کوہلاکت میں ڈالتاہے۔ایک دوسری طویل حدیث میں سچ اورجھوٹ کے فرق کواس طرح بیان کیاگیاہے:۔ترجمہ: حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کہ بے شک سچ نیکی کی طرف لے جاتاہے اورنیکی جنت کی طرف لے جاتاہے،اورجوشخص سچ بولتاہے یہاںتک کہ اللہ کے نزدیک اسے سچالکھ دیاجاتاہے،اورجھوٹ برائی کی طرف  لے جاتاہے اوربرائی جہنم کی طرف لے جاتاہے اورجوشخص جھوٹ بولتارہتاہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک اسے جھوٹالکھ دیاجاتاہے۔(بخاری۸؍۳۰)اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کی شان بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایاکہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتاہے:حضرت صفوان بن سلیم سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاگیاکہ کیامومن بزدل ہوسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشادفرمایا:ہاں،پھرپوچھاگیاکہ کیامومن بخیل ہوسکتاہے؟جواب میںارشادفرمایا:ہاں،آخرمیںپوچھاگیاکہ کیامومن جھوٹاہوسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاکہ نہیں،مومن جھوٹ نہیں بول سکتا۔(رواہ امام مالک فی المؤطا)
ہرسال پہلی اپریل کوپوری دنیامیں’’اپریل فول‘‘کے نام سے منایاجاتاہے،اوراس میں جانے انجانے میں ہم مسلمان بھی برابرکے شریک رہتے ہیں،اپریل فول کا مطلب جھوٹ اوردھوکہ کے ذریعہ ایک دوسرے کوبیوقوف بنانااورجب وہ بے وقوف بن کرشرمندہ ہوجائے تواپنی اس نام نہاداورجھوٹی کامیابی پرخوش ہونا،اسی کواپریل فول کہتے ہیں۔اپریل فول نام ہی ہے جھوٹ،فریب،مکراوردھوکہ بازی کاجس کی نہ تودنیاکاکوئی مذہب اجازت دیتاہے اورنہ ہی دنیاوی قانون،لیکن اس کے باوجودآج کی یہ مہذب دنیا اس قبیح فعل اورجھوٹ ودغابازی کے اس مکروہ عمل کوانجام دے کرخوش ہوتی ہے اورجوجتنے زیادہ لوگوںکواس جھوٹ اورفریب کے ذریعہ بے وقوف بناتے ہیںوہ اتنازیادہ فخرمحسوس کرتے ہیں،پہلے پیراگراف میں احادیث کے ذکرکرنے کامنشاومقصودہی یہی تھاکہ جس جھوٹ اورفریب کے گھناؤنے کھیل کاہم تذکرہ کرنے جارہے ہیںپہلے اسلامی تعلیمات کی روشنی میںاس کی قباحت کواچھی طرح سے اجاگرکردیاجائے۔مذکورہ حدیثوںمیںآپ یہ دیکھ رہے ہیںکہ کس طرح اسلام نے جھوٹ اورجھوٹ بولنے والوںکے لیے کتنی سخت وعیدیںبیان کی ہیںاتناہی نہیںبلکہ یہاںتک کہاگیاکہ مومن جھوٹ نہیںبول سکتا،اس کامطلب یہی ہواکہ جوجھوٹ بول رہا اورجھوٹ کے اس عمل میںشریک ہورہاہے خواہ وہ اسے ایک معمول کی ہنسی مذاق ہی سمجھ کرسہی وہ مذکورہ بالاحدیث کی روشنی میں مومن 
نہیں ہوسکتا،کیوںکہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔


اتوار، 31 مارچ، 2013

شاعروں کی انوکھی مجلس دائرۃالکہلاء


والد صاحب کی پرانی کتابیں دیکھ رہا تھا اتفاق سے ہما اردو ڈائجسٹ کا 1976 میں شائع شدہ اردو نمبر ہاتھ لگا ۔ یہ انتہائی مفید ہے اورزبان اردو کی ارتقائی تاریخ اور محسنین اردو کے تذکرے پر مشتمل ہے۔ 
یہ موضوع اتنا دلچسپ لگا کہ بزم اردو میں اردو نامہ نام سے ایک سیکشن اس مضوع پر شروع کر دیا جہاں اردو نمبر کی منتضب تحریریں پوسٹ کر رہا ہوں۔ جو مضمون میں خود ٹائپ کرنے سے قاصر ہں وہ کسی اور دوست کو اسکین کر کے ارسال کر دیتا ہوں۔ زیر نظر تحریر اسی کتاب سے لی گئی ہے جو انتہائی دلچسپ ہے۔ اسے بزم میں موجود ایک دوست " ابولمزاح " صاحب نے ٹائپ کیا ہے۔ 
*****************************************************
شاعروں کی انوکھی مجلس دائرۃالکہلاء

جگر صاحب کا پہلی بار تقریبا ً تین ماہ بھوپال میں قیام رہا اس کے بعد وہ واپس چلے گئے اور ایک سال بعد وہ دوبارہ تشریف لائے اور محمود علی خان جامعی کے یہاں قیام کیا ۔ جو اس وقت بھوپال میں مردم شماری کے آفیسر تھے ۔ پھر محفلیں جمنے لگتیں اور بھوپال کے تقریباً تمام اچھے شعرا ء اس محفل میں حصہ لینے لگے ۔ ان میں کم عمر بھی ہوتے تھے جوان اور پیر بھی ۔ اور رات کے تین تین بجے تک محفل جمی رہتی تھی ۔ یہ زمانہ موسم برسات کا تھا ۔ اوربھوپال میں برسات کا موسم بہار کی کیفیت پیدا کرتا ہے ۔ اس موسم میں آرام طلبی کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور مزاج میں سستی آجاتی ہے ۔ اس لیے کاہلی کی تحریک شروع کی گئی ۔ ایک بات اور سامنے آئی ۔ چھوٹے بڑے ایک دوسرے کے سامنے بے تکلف نہیں ہو پاتے۔اور بے تکلفی کے بغیر کام نہیں چلتا تھا اس لیے بھی ضرورت محسوس کی گئی کہ ایک ایسی انجمن بنائی جائے جس میں فرق مراتب کا خیال ختم کر دیا جائے ۔ اور ان بے فکروں کو آداب ِ محفل سے کچھ حد تک بے نیازی حاصل ہو جائے ۔ 
مولوی مہدیؔ بھی اسی جگرؔنوازوں کی جماعت سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان کی عادت تھی کہ جب وہ آتے تو فوراً ہی لیٹ جاتے اور ہلکی چادر جسم پر ڈال لیتے اور صرف ایک پیر کو جنبش دیتے رہتے ۔ صبح سے رات تک انکا یہی معمول تھا ۔ چونکہ سب سے زیادہ معمر تھے ۔ اس لیے ہر فرد ان کا ادب و احترام کرتا تھا ۔ ان کی سستی اور کاہلی کو دیکھ کر ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ کیوں نہ ہر شخص کیلئے کام سے بچنے کے مواقع پیدا کیے جائیں ۔ چنانچہ کئی دنوں کی بحث ومباحثہ کے بعد ایک انجمن قائم کی گئی جس کا نام "دائرۃ الکہلا" رکھا گیا ۔
جس کی کی بنیاد محمود علی صاحب کے گھر پررکھی گئی ۔ پھر اسے "دارالکہلا " کا نام دیا گیا ۔ اس انجمن کی بنیاد کی وجہ یہ بتائی گئی کہ دنیا میں جتنی پریشانیاں اور مشکلات پیدا ہو رہی ہیں وہ سب سرعت رفتار کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہیں ۔ اسی کی وجہ سے جنگیں بھی ہو رہی ہیں اور جنگوں کیلئے آسانیاں بھی پیدا ہو رہی ہیں ۔ اسی کی وجہ سے دنیا والے مشکلات اور تکالیف میں گرفتار ہوتے چلے جا رہے ہیں اس لئے ضرورت کہ اس کی روک تھام کی جائے ۔ سستی اس سلسلے میں بڑی مددگار ثابت ہو سکتی ہے ۔ اسی غرض سے کاہلوں کی انجمن بنائی گئی تاکہ کاہلی اور سستی کی اشاعت کی جا سکے اور جنگ اور دوسری مشکلات کا سد باب ہو سکے ۔
انجمن کی فیس ایک تکیہ رکھی گئی ۔ جو شخص بھی اس انجمن کا رکن ہوتا تھا وہ ایک تکیہ لا کر دار الکہلا میں ڈال دیتا تھا ۔ ایک بات یہ طے پائی کہ لیٹا ہوا آدمی اول درجہ کا کاہل شمار کیا جائے گا ۔ بیٹھا ہوا دوم ۔ اور کھڑا ہوا سوم درجہ کا ۔ اس لیے لیٹا ہوا بیٹھے ہوئے کو اور بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے کو کسی کام کا حکم دے سکتا ہے ۔ مثلاً چلم بھرنا ، پانی پلانا وغیرہ ۔ کام سے بچنے کیلئے اکثر ممبران دروازے پر پہنچتے ہی کھڑے کھڑے لیٹ جاتے تھے اور لیٹے لیٹے کمرے میں داخل ہوتے تھے تاکہ کسی قسم کا حکم نہ دیا جا سکے ۔ موٹی کور کی پیالی میں چائے پینا ایک دم ممنوع قرار پایا ۔ اس لیے کہ اس میں منہ زیادہ کھولنا پڑتا ہے جو کاہلی کیلئے 
نقصان دہ ہے ۔

سوموار، 11 مارچ، 2013

مولانا آزاد کا خط سید سلیمان ندوی کے نام




مولانا آزاد کا خط سید سلیمان ندوی کے نام

دارالمصنفین اور علامہ شبلی نعمانی سے تعلق کی بنا پر مولانا ابوالکلام آزاد کے تعلقات سید سلیمان ندوی سے بہت دیرینہ تھے۔ اس تعلق کی وجہ سے دونوں کے بیچ خطوط کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ خطوط علمی، ادبی اور تاریخی اعتبار سے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ زندگی کے آخری مرحلہ میں آزادکو یہ درد ستانے لگا کہ ان کے بعد ”الہلال“ کو کون سنبھالے گا، چنانچہ اسی قلق واضطراب میں انہوں نے ےہ خط سید سلیمان کو لکھا۔
نو جنوری 1914 ، کلکتہ
صدیقی الجلیل الاعز،
 افسوس کہ میں جس خط کا منتظر تھاوہ باوجود وعدہ آپ نے نہیں لکھا، بہرحال آج میں اپنے شورش قلبی سے مجبور ہوکر ایک بار اور کوشش وصل کرتا ہوں۔ آپ نے پونہ میں پروفیسری قبول کرلی، حالانکہ خدانے آپ کو درس وتعلیم سے زیادہ عظیم الشان کاموں کے لئے بنایا ہے۔کیا حاصل اس سے کہ آپ نے چند طالب علموں کو فارسی وعربی سکھا دی، آپ میں وہ قابلیت ہے کہ لاکھوں نفوس کو زندگی سکھلاسکتے ہیں۔
میرے تازہ حالات آپ کو معلوم نہیں، خدا شاہد ہے مسلسل چار گھنٹے کام نہیں کر سکتا، ورنہ آنکھوں میں تاریکی چھا جاتی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ’الہلال‘ ایک تحریک تھی جس نے استعداد پیدا کی لیکن اس استعداد سے معاً کام لینا چاہئے، اور میں نے قطعی ارادہ کر لیا ہے کہ خواہ الہلال کی کچھ ہی حالت کیوں نہ ہو لیکن کام شروع کر دیا جائے، چنانچہ شروع بھی کر دیا ہے، ایسی حالت میں قباحت ہے، اگرچہ آپ باوجود استطاعت و طاقت رکھنے کے میری اعانت سے انکار کر دیں۔ آپ یاد رکھئے کہ اگر ان مصائب و موانع کی وجہ سے میں مجبور رہ گیا تو قیامت کے دن یقینا آپ اس کے ذمہ دار ہوں گے کہ آپ نے ایک بہت بڑے وقت کے رد عمل کو اپنی علیحدگی سے ضائع کر دیا۔ آپ آ کر الہلال بالکل لے لیجئے، جس طرح جی چاہئے اسے ایڈٹ کیجئے، مجھے سوا اس کے اصول و پالیسی کے (جن میں آپ مجھ سے متفق ہیں) اور کسی بات سے تعلق نہیں، میں بالکل آپ پر چھوڑتا ہوں اور خود اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتا ہوں، صرف اپنے مضامین دے دیا کروں گا، اور کچھ تعلق نہ ہوگا۔
ایک وقت یہ ہے کہ ہر کام کے لئے شرائط کا اظہار ضروری ہے، اور ایسا کیجئے تو آپ کہتے ہیں کہ طمع دلاتے ہو، استغفراللہ، لیکن میں یقین دلاتا ہوں کہ بغیر کسی ایسی نیت کے محض شرائط معاملہ کے طور پر چند امور عرض کرتا ہوں۔
 یہ ایک بہتر کام ہے جو الہلال کی گرفتاریوں کی وجہ سے میں شروع نہیں کر سکتا۔ اب اگر اور دیر ہو گئی تو سخت نقصان ہوگا اور اسی لئے میں نے آخری فیصلہ اس کی نسبت کر لیا ہے۔ میں آپ کو پابند نہیں کرنا چاہتا لیکن اگر آپ خود چاہیں تو جتنی مدت کے لئے کہیں معاہدہ قانونی بھی ہو سکتا ہے۔
مجھ کو پوری امید ہے کہ میری یہ سعی بے کار نہ جائے گی کیونکہ میں سچے دل سے آپ کا طالب ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ سچی طلب و مودت ہمیشہ کامیاب ہوتی ہے۔
ابوالکلام


 بشکریہ ٹی ایس آئی


ہفتہ، 2 مارچ، 2013

کمپیوٹر انٹرنیٹ اور زبان اردو

 یہ مضمون علی شیراز کے بلاگ سے ماخذ ہے ۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر فروغ اردو کی نسبت سے کچھ اسی طرز کا مضمون ہندوستانی اردو اخبارات کے لیے تحریر کرنا مقصود تھا لیکن اس مضمون پر جب نظر پڑی تو الگ سے ایک اور مضمون تحریر کرنا وقت کی بربادی محسوس ہوئی اور  یہ مناسب لگا کہ اسی میں کچھ مفید اضافے کر دیے جائیں ۔ اس مضمون میں ہندوستان سے اردو کے لیے کی گئی کوششوں کا تذکرہ نہیں کیا گیا تھا اعجاذ عبید صاحب سے مشورہ اور تصحیح کے بعد مزید کچھ اضافوں کے ساتھ یہ مضمون اخبارات کو ارسال کر دیا گیا۔ 
قارئین سے گذارش ہے کہ اصلاح کی کوئی صورت نظر آئے تو ضرور مطلع فرمائیں۔  


کمپویٹر انٹرنیٹ اور زبان اردو
عصر حاضر میں کمپیوٹر اور انٹر نیٹ ایک بنیادی ضرورت اور ہماری زندگی کا جزو لاینفک بن چکا ہے۔ خیالات کی ترسیل کے لئے پہلے خطوط لکھے جا تے تھے اور کاغذ انسانی ہاتھ کے لمس کی مہک سے معمور ہوتے تھے۔ کاغذ کے دور سے کی بورڈ، کتاب کے دور سے ای کتاب اور خط کے دور سے ای میل تک کا سفر انسان نے بہت جلد طے کر لیا۔ یہ سب کچھ جدید ٹیکنالوجی کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کی بدولت ہوا۔ فاصلوں کا جھنھجٹ ہی ختم ہوا اور جغرافیائی سرحدیں اپنا سا مْنہ لے کر رہ گئیں۔
اردو کمپیوٹنگ دراصل کمپیوٹر پر اردو استعمال کرنے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو کے متعلق اور اردو میں تعلیم و تحقیق کا نام ہے۔ برصغیر میں ٹائپ رائٹر کی آمد کے تھوڑے عرصے بعد ہی اردو بھی ٹائپ رائٹر سے لکھی جانے لگی لیکن ٹائپ رائٹر سے صرف نسخ رسم الخط یعنی نسخ فانٹ میں ہی اردو لکھی جا سکتی تھی۔ بلکہ مولانا ابو الکلام آزاد کی کچھ تصانیف کی کمپوزنگ بھی ٹائپ کے ذریعے ہوئی تھی۔
نستعلیق رسم الخط تکنیکی لحاظ سے تھوڑا پیچیدہ ہے کیونکہ اگر ہم مشین پر نستعلیق لکھنے کے حوالے سے بات کریں تو جیسے جیسے کسی لفظ کے میں حروف کا اضافہ ہوتا ہے ویسے ویسے پچھلے حروف نئے لکھے گئے حرف کے مطابق اپنی شکلیں اور جگہیں تبدیل کرتے ہیں۔ نستعلیق کی ایسی پیچیدگیوں کی وجہ سے ماضی میں کئی لوگوں نے یہ کہا تھا کہ اردو کا معیاری رسم الخط فارسی والوں کی طرح نستعلیق سے نسخ کر دینا چاہئے۔اور بعض احباب نے تو یہاں تک مشورہ دیا تھا کہ اردو کی ترقی کے لیے رومن یا دیوناگری رسم الخط کا استعمال کرنا چاہیے۔
کمپیوٹر کا دور شروع ہوتے ہی اردو والوں نے بھی کمپیوٹر کے ذریعے کتابت کرنے کی کھوج لگانی شروع کر دی۔ تقریباً 1980ء میں پاکستان کے ایک بڑے اشاعتی ادارے کے مالک مرزا جمیل احمد نے جنگ گروپ کے تعاون سے کاروباری نکتہ نظر سے ایک نستعلیق نظام تیار کروایا جس کو انہوں نے اپنے والد مرزا نور احمد کے نام پر نوری نستعلیق کا نام دیا۔اسی نظام کی کچھ تختیاں وہ ہندوستان میں فرحان اشہر (مشہور افسانہ نگار جیلانی بانو اور ادیب انور معظم کے صاحبزادے)کے پاس چھوڑ آئے تھے۔ انہوں نے راجیو شری واستو کے ساتھ مل کر ’اردو پیج کمپوزر‘ یا ’صفحہ ساز‘ نامی سافٹ وئر بنایا۔ جس سے روزنامہ سیاست حیدر آباد نے کمپیوٹر کی چھپائی کا آغاز کیا۔ ادار? سیاست کے تعاون کی وجہ سے فرحان نے اس سافٹ وئر کے نستعلیق فانٹ کا نام بھی سیاست کے بانی عابد علی خاں کے نام پر ’عابد‘ رکھا۔ ہندوستان میں عرصے تک یہ سافٹ وئر استعمال کیا جاتا رہا۔ اور اب بھی حکومت ہند کے محکمہ انفارمیشن ٹکنالوجی میں اس کا نیا روپ ’ناشر‘ کے نام سے دستیاب ہے۔ یہاں سے کمپیوٹر کے ذریعے کتابت کا آغازہوا۔2000ء تک اردو کے کئی سافٹ ویئرز بنے اس کے بعد 2000ء تک کاروباری نقطہ نظر اور عام کمپیوٹر صارفین کے لئے کئی ایک سافٹ ویئرز بنے۔ ان میں جو سافٹ ویئر معیاری تھے وہ کاروباری نکتہ نظر سے بنائے گئے تھے اور ان کی قیمت عام صارفین کے بس سے باہر تھی۔ اس کی سب سے بڑی مثال ان پیج ہے جو کہ آج بھی تقریباً پندرہ ہزار روپئے قیمت کا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سافٹ ویر بھی کنسیپٹ سافٹ   ویئرزویئرز نامی کمپنی نے  ہندوستان   دو غیر مسلم انجنیئر راریندر سنگھ اور وجئے گپتا کی کوششوں سے بنایا تھا۔ اسے بنانے میں کامران روحی کی کمپنی ملٹی لنگل سولیوشنز  (یوکے ) اپنا تعاون پیش کیا تھا۔   
اس میں کوئی شک نہیں ان پیج اپنے وقت کا ایک معیاری سافٹ ویئر تھا لیکن اس کی وجہ شہرت شاید اس کے معیار کی بجائے اس کی چوری تھی ہوا یوں کہ پاکستان کے کسی مسٹر ڈونگل نے اس سافٹ ویئر کو کریک کر کے ہر ایک کے لئے مارکیٹ میں پھیلا دیا اب آپ اسے سافٹ ویئر کی چوری کہیں یا کچھ اور۔شر سے خیر نے جنم لیا کہیں یا جرم سمجھیں۔لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ اس جرم کے نتیجہ میں ہی عام صارف کمپیوٹر پر بہتر انداز میں اردو لکھ پایا۔ شروع میں کمپیوٹر کے آپریٹنگ سسٹمز میں جس طرح انگریزی کی سہولت موجود تھی اس طرح اردو کی سہولت نہیں تھی یعنی جہاں کچھ لکھا جا سکتا تھا وہاں پر انگریزی تو لکھی جا سکتی تھی مگر اردو نہیں لکھی جا سکتی تھی اس لئے اردو کے لئے علیحدہ نظام بنا کر اور پھر اس خاص نظام کے ذریعے سافٹ ویئرز سے بنائے جاتے دراصل ان پیج اور تب کے دیگر اردو سافٹ ویئر کا اپنا اپنا ایک الگ نظام تھا اور یہی وجہ تھی کہ ان سافٹ ویئرز میں لکھی ہوئی اردو تحریر صرف انہیں میں ہی دیکھی جا سکتی تھی تب اگر کسی کو تحریر کسی دوسرے سافٹ ویئر یا انٹرنیٹ پر لے جانا پڑتی تو پہلے وہ تحریر کو تصویر میں منتقل کرتے اور پھر اس تصویر کو اپنی مطلوبہ جگہ پر لے جاتے۔ یعنی تب کمپیوٹر کی اردو نہیں بلکہ تصویری اردو تھی۔
یہ مسئلہ صرف اردو کے ساتھ نہیں تھا بلکہ دیگر کئی ایک زبانوں کے ساتھ تھا اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کام شروع ہوا اور پھر ایک ایسا نظام بنایا گیا جس میں دنیا کی تقریباً تمام زبانوں کو لکھنے کی سہولت دی گئی۔ اس نظام کا نام یونیکوڈ ہے۔
ونڈوز کے پرانے ورڑن میں ہی یونیکوڈ نظام شامل کر دیا گیا تھا لیکن اردو کے حوالے سے یونیکوڈ نظام کو مکمل طور پر ونڈوز ایکس پی میں شامل کیا گیا اس سہولت کے شامل ہونے سے کسی خاص اردو سافٹ ویئر کی ضرورت باقی نہ رہی بلکہ جہاں دیگر کوئی زبان جیسے انگریزی لکھی جاتی تھی وہیں پر اردو بھی بالکل ویسے ہی لکھنے کی سہولت مل گئی اور یہیں سے اصل معنیٰ میں اردو کمپیوٹر میں شامل ہوئی۔
کمپیوٹر کی اصل اردو: اردو ہو یا کوئی بھی زبان کمپیوٹر صرف اسے ہی تحریر سمجھتا ہے جو اس کے تحریر لکھنے والے نظام کے تحت لکھی جاتی ہے کیونکہ اب کمپیوٹر پر تحریر لکھنے کا نظام یونیکوڈ ہے لہٰذا کمپیوٹر صرف اسے ہی تحریر سمجھے گا جو یونیکوڈ نظام کے تحت لکھی جائے گی۔
یونیکوڈ نظام سے پہلے کیونکہ ہم براہ راست ہر جگہ اردو نہیں لکھ سکتے تھے اس لئے مجبوری تھی بلکہ واحد راستہ یہ تھا کہ اگر ہمیں انٹرنیٹ پر اردو ڈالنی ہے تو اسے تصویر صورت میں منتقل کر لیں۔ یعنی تصویری اردو سے کام چلایا جاتا۔ اس تصویری اردو نے جہاں کمپیوٹر پر وقتی طور پر کام چلایا وہیں پر بعد میں وہی تصویری اردو اردو کی ترویج کے لئے زہر قاتل ثابت ہوئی اور ابھی تک یہ تصویری اردو ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اب جب ہم جدید تقاضوں کے مطابق بالکل انگریزی کی طرح اردو لکھ سکتے ہیں تو پھر ہمیں تصویری اردو کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر آپ غور کریں تو کمپیوٹر کا سب سے زیادہ استعمال جلد سے جلد اور آسانی سے معلومات کا حصول ہے جس کی سب سے بڑی مثال انٹرنیٹ کی دنیا سے منٹوں میں بہت ساری معلومات حاصل کر لی جاتی ہے یعنی کمپیوٹر کا سب سے زیادہ استعمال معلومات کی تلاش ہے لیکن تصویری صورت میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر پھیلائی ہوئی اردو میں سے کچھ تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر نہ تو آپ گوگل میں تصویری اردو کے ذریعے کچھ تلاش کر سکتے ہیں اور نہ ہی گوگل تصویری اردو سے کچھ تلاش کر کے آپ کو مطلوبہ معلومات فراہم کر سکتا ہے کیونکہ کمپیوٹر تصویری اردو کو ایک تصویر سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا اور اس تصویری اردو کے نقصانات ہی نقصانات ہیں بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں تصویری اردو کو اردو کہنا ہی، اردو کی توہین ہے چھوٹی سی بات یہ کہ تصویری اردو ایک اندھیرا کنواں ہے جبکہ کمپیوٹر کی اصل یعنی جدید یونیکوڈ نظام کے تحت لکھی جانے والی اردو میٹھے پانی کا وہ چشمہ ہے جو ساری دنیا کو سیراب کر سکتا ہے۔ یاد رہے کمپیوٹر کی نظر میں تحریر وہی ہے جو یونیکوڈ نظام کے تحت لکھی جاتی ہے۔ یونیکوڈ اردو کے فوائد ہی فوائد ہیں۔ جہاں جہاں کمپیوٹر دیگر کسی زبان میں کچھ کر سکتا ہے بالکل وہیں پر یونیکوڈ اردو میں اردو کے لئے وہی سب کچھ کر سکتا ہے جو کسی دیگر زبان کے لئے کرتا ہے یونیکوڈ اردو اور تصویری اردو میں فرق سمجھنا ایک عام کمپیوٹر صارف کے لئے نہایت ہی آسان ہے سیدھی اور سادہ بات یہ کہ جو اردو تصویری کی صورت جیسے GIFیا JPG وغیرہ میں ہو وہ تصویری اردو ہے اور جو عام تحریر، جسے ہم منتخب کر کے ایک جگہ سے دوسری جگہ کاپی پیسٹ کر سکیں وہ یونیکوڈ اردو یعنی کمپیوٹر کی اصل اردو ہے۔ مثال کے لئے آپ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ دیکھیں تو وہ یونیکوڈ اردو میں ہے جبکہ ہمارے اکثر ہندوستانی اور پاکستانی اخبارات کی ویب سائٹ تصویری اردو میں ہیں۔
ونڈوز ایکس پی میں اردو کی مکمل سہولت شامل تو ہو گئی تھی لیکن اردو کے لئے دیگر کئی قسم کی چیزیں جیسے کیبورڈ لے آؤٹ سافٹ ویئر اور فانٹ وغیرہ تیار کرنے اردو ویب سائٹ بنانے اور خاص طور پر اردو بلاگنگ جیسے کام اور کئی دیگر مسائل کا حل خود اردو والوں کو کرنا تھا اور سونے پر سہاگہ یہ کہ انیسویں صدی میں جینے والے یعنی تصویری اردو سے کام چلانے والوں کو بھی سمجھانا تھا کہ جدید طریقوں سے اردو لکھو تاکہ اردو کی ترویج آسانی سے ممکن ہو سکے یہ ساری کوششیں ایک عام صارف کے لئے کرنی تھیں تاکہ وہ آسانی سے کمپیوٹر پر اردو لکھ سکے جبکہ کاروباری لوگ تو بہت پہلے سے کاروباری نکتہ نظر سے اور پیسے کے زور پر اپنے کام چلائے ہوئے تھے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم میں اردو کی سہولت شامل ہونے کے بعد ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو کی ترویج کے لئے انفرادی طور پر لوگ کام کر رہے تھے۔2002 میں ہی اعجاز عبید (اصل نام اعجاز اختر) نے یاہو اردو کمپیوٹنگ گروپ بنایا۔ اور اردو کی کمپیوٹر پر تدریج کے لئے اس فعال گروپ میں ہند و پاک کے سارے تکنیکی لوگ جمع ہو گئے۔ اسی گروپ اور اردو پاک ٹائپ گروپ کے ارکان نے اور بہت سے نسخ یونی کوڈ فانٹس اور مختلف کی بورڈس بنائے۔اسی دوران 2002ء میں ہی بی بی سی اردو نے جدید یونیکوڈ نظام کے تحت اپنی ویب سائٹ بنا دی یہ ویب سائٹ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اردو لکھنے لگی۔ اور اس نے بہت شہرت حاصل کی کمپیوٹر میں اردو شامل ہو چکی تھی تو ہر ادارے نے اس طرف دوڑیں لگا دیں2004ء میں مشہور آن لائن انسائیکلوپیڈیا یعنی وکی پیڈیا نے بھی اردو کو شامل کر لیا اور اب تو گوگل تک اردو میں دستیاب ہے۔ 2005ء تک زیادہ تر انفرادی طور پر کام ہوتا رہا۔ اس کے علاوہ حکومت پاکستان کا ادارہ ’مقتدرہ اردو زبان‘ تھا جس نے کچھ کام کیا تھا اور کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ سارے فعال رضاکار یاہو اردو کمپیوٹنگ گروپ سے متعلق تھے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج کا اصل کام تب شروع ہوا جب 2005ء4 میں چند رضاکاروں نے مل کر اردو ویب ڈاٹ آرگ ویب سائٹ کی بنیاد رکھی۔ نبیل نقوی جو خود بھی یاہو اردو کمپیوٹنگ گروپ کے رکن تھے، نے یہ خیال ظاہر کیا کہ اگر اردو لکھنے کے لئے آن لائن ٹول دستیاب ہو سکے تو عام آدمی کی بورڈ اور فانٹ کے علم کے بغیر اردو لکھ سکے۔ اسی خیال کو عملی جامہ پہناتے ہوئے نبیل نقوی نے اردو پیڈ کے نام سے ایک ایڈیٹر بنایا۔اور نبیل نقوی کے ساتھ زکریا اجمل، آصف اقبال اور قدیر احمد نے اسی ویب سائٹ پر ایک فورم تشکیل دیا گیا اور اس کا نام اردو محفل رکھا۔ پی ایچ بی بی نامی سافٹ وئر کو اردو روپ دیا تھا قدیر احمد نے اور اس میں نبیل کا اردو پیڈ شامل تھا۔ اسی فورم پر تمام رضاکار مل کر تکنیکی اور دیگر حوالوں سے اردو کی ترویج کے لئے کھوج لگانے لگے خاص طور پر جدید نظام کے مطابق اردو میں ویب سائٹ بنانے اور انٹرنیٹ کے ایک موثر ہتھیار یعنی بلاگ اردو میں بنانے پر کام کیا گیا۔ اردو ویب والوں نے شروعات میں ہی اردو سیارہ کے نام سے ایک بلاگ ایگریگیٹر بنا دیا تھا آج آپ کو انٹرنیٹ پر جو اردو نظر آ رہی ہے اس میں سب سے بڑا ہاتھ اردو ویب ڈاٹ آرگ کا ہی ہے۔ اردو ویب کی بدولت کئی ایک اردو فورم وجود میں چکے تھے لیکن ایک اچھے نستعلیق رسم الخط کی کمی ہر جگہ محسوس ہوتی تھی پھر 2008ء میں پشاور کے ایک نوجوان2008ء امجد حسین علوی نے علوی نستعلیق بنا کر جیسا انقلاب برپا کر دیا گو کہ آج بہت کم لوگ علوی نستعلیق کے بارے میں جانتے ہیں مگر اردو محفل کے ہی پلیٹ فارم سے علوی نستعلیق ہی تھا جس نے فانٹ سازی کو ایک نئی راہ دکھائی پھر اردو محفل میں ہی اسی راہ پر چلتے ہوئے جمیل نوری نستعلیق بنا اور اب حا ل ہی میں شاکر القادری صاحب نے اردو والوں کو وہ تفہ دے دیا جو قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے۔ شاکرالقادری صاحب نے ہمیں القلم تاج نستعلیق کی صورت میں ایک بہت بڑا تفہی دیا۔ القلم تاج نستعلیق مکمل طور پر مفت ہے اور بلا خوف و خطر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اردو ویب سائٹ بنانے اور اردو میں بلاگنگ کے مسائل کے حل ہوتے گئے کئی مشہور سافٹ ویئر کا اردو ترجمہ ہوا یہاں تک کہ ایک نوجوان محمد علی مکی نے لینکس آپریٹنگ سسٹم کا اردو ترجمہ کر ڈالا ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو والوں کا قافلہ دن بدن بڑھتا جا رہا تھا۔
اردو بلاگنگ کے ارتقاء4 کے لئے بھی ایم بلال کا زبردست رول رہا ہے۔ اردو میں بلاگ کس طرح بنایا جائے، اس کے ٹیوٹوریل لکھے۔ کئی رضاکاروں نے بلاگ کے سانچے بنائے، اس کے علاوہ مرحوم اردو ٹیک نامی ویب سائٹ نے اردو بلاگ کی پیش کش کی تو بہت سے لوگوں نے بلاگس شروع کئے۔ بیشتر اردو بلاگس میں رائے کے اظہار کے لئے وہی نبیل نقوی ولا اردو پیڈ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
لیکن ایک چیز قابل غور تھی کہ اس قافلے میں زیادہ تر ٹیکنیکل لوگ تھے کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ کمپیوٹر پر اردو کی سہولت شامل کرنے کا طریقہ تھوڑا لمبا اور مشکل ہے اس وجہ سے عام کمپیوٹر صارف کو مشکلات کا سامنا ہے اور وہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو لکھنے میں دقت محسوس کرتے ہیں بلکہ کئی لوگ تو مشکل کی وجہ سے بھاگ ہی جاتے ہیں ان مشکلات کو دور کرنے اور اردو کی زیادہ سے زیادہ ترویج کے لئے ایم بلال ایم نے 2011ء4 میں پاک اردو انسٹالر کے نام سے ایک ایسا سافٹ ویئر بنایا جس کے ذریعے، صرف چند کلک سے کمپیوٹر پر اردو کے متعلق تمام سہولیات خودبخود شامل ہو جاتی ہیں۔ پاک اْردو انسٹالر کمپیوٹر اور انٹر نیٹ پر اْردو لکھنے کے لئے ایک مْفت سافٹ وئیر ہے۔ اس سافٹ وئیر کے خالق ایم بلال ہیں۔ پاک اردو انسٹالر ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کے لئے ہے۔ پاک اردو انسٹالر انسٹال کرنے کے بعد کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر جس جگہ کچھ لکھا جا سکتا ہے وہاں پر جدید تقاضوں کے مطابق اردو بھی لکھی جا سکتی ہے اور اردو بہتر انداز میں پڑھنے کے لئے اردو کے چند ضروری فانٹس خودبخود انسٹال ہو جاتے ہیں۔
اردو کی ترویج کے لئے آج کے جدید ہتھیار انٹرنیٹ کو اپنائیے اور زیادہ سے زیادہ معلومات انٹرنیٹ پر ڈالنے کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کو بھی اردو کی طرف قائل کریں۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں آج ان گنت یونیکوڈ اردو فورمز اور ویب سائٹس وجود میں آئی ہیں۔اور اردو کے چاہنے والوں کے لیے ایک بہت بڑا ذخیرہ ان ویب سائٹس پر جمع کر دیا گیا ہے لیکن پوری دیانت داری سے جائزہ لیا جائے تو وطن عزیز ہندوستان سے اس سمت میں پیش رفت بہت سست رہی ہے۔ جو ویب سائٹس موجود ہیں وہ اپنے تصویری فارمیٹ کی وجہ سے اردو داں طبقہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ لیکن بعض فکر مند احباب ایک عرصہ سے یونیکوڈ اردو کی ہندوستان میں ترویج و ترقی کے لیے کوشاں ہیں تاکہ زمانہ کی رفتار کے ساتھ ہماری زبان بھی ترقی کر سکے۔ الحمدللہ وقت کی رفتار کو دیکھ کر بہت ساری ویب سائٹس اب یونیکوڈ فار میٹ میں بھی نظر آنے لگی ہیں۔ کچھ اخبارات نے بھی اپنے یونیکوڈ ایڈیشن شروع کیے ہیں جو انتہائی قابل مبارکباد عمل ہے۔
آج کل سوشل ویب سائٹس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اور خواص و عوام ان ویب سائٹ سے جڑے ہوئے ہیں لیکن ان سوشل ویب سائٹس پر بڑھتی ہوئی بے حیائی اور فحاشی سے سلیم الفطرت نفوس کافی پریشان کہ ان کے اثرات سے ہماری نسلوں کی حفاظت کیسے ہو، ہماری لسانی تہذیبی اور ثقافتی قدروں کی کس طرح حفاظت کی جائے؟ اس بات کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اردو طبقے کا اپنا کوئی سوشل نیٹورکنگ پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے۔ اسی ضرورت کی تکمیل کے طور پر حیدر آباد سے اعجاز عبید اور منماڑ سے ڈاکٹر سیف قاضی نے اپنی مشترکہ کوششوں سے اردو کو خواص سے نکال کر عوامی سطح پر لانے ، اردو رسم الخط کی ترویج و ترقی ، صالح اقدار کے فروغ اور مثبت سماجی روابط کی برقراری کے لیے اردو داں طبقے کی خاطر بزم اردو ڈاٹ نیٹ نام سے ایک غیر منفعتی اردو سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹ کا آغاز کیا ہے۔الحمدللہ یہ ویب سائٹ بھی محبان اردو کی اجتماع ثابت ہو رہی ہے اور عوام و خواص یہاں پر شامل ہو کر اپنے ذوق کی تکمیل کر رہے ہیں۔
آج کی دنیا کے جدید ہتھیاروں میں ایک بلاگ بھی ہے اردو میں بلاگ لکھئے ،فیس بک اور ٹوئیٹر پر اردو لکھیں بزم اردو میں اردو داں احباب سے دوستی کریں اور اردو میں اپنا پیغام اور آواز سب تک پہنچا دیجئے۔ لیکن ان ویب سائٹس پر اردو تحریر کرنے کے لیے آپ کے کمپیوٹر کو اردو پڑھنے اور لکھنے کے لائق بنانے کی ضرورت پیش آئے گی۔ اس کے لیے آپ کو کسی مخصوص کی بورڈ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ محض پاک اردو انسٹالر کی تنصیب کے ساتھ آپ کا کمپیوٹر ونڈو کی اپلیکیشنس اور دیگر ویب سائٹس پر اردو تحریر کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ پاک اردو انسٹالر حاصل
کرنے کے لیے www.mbilalm.com  پر تشریف لے جائیں۔

جمعرات، 14 فروری، 2013

بزم اردو سوشل نیٹ ورک کا آغاز


بزم اردو سوشل نیٹ ورک کا آغاز

اردو کو خواص سے عوام تک پہنچانے کی کوشش

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس برق رفتار دور میں  بیچاری اردو کہاں  کھڑی ہے اس بات سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہیں۔  سائنس اور ٹیکنالوجی میں مغربی ممالک  کی سبقت نے  اقوام عالم کی تہذیب و ثقافت ، رہن سہن ، طرزمعاشرت اور زبانوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ دور حاضر میں مغرب سے آنے والی ہر چیز کو سند مانا جاتا ہے اور چونکہ انگریزی کو ایجاد و اختراع کی زبان تسلیم کیا جا چکا ہے اس لیے اردو داں طبقے کا اردو سے دور ہونا کوئی بعید ازقیاس بات نہیں ہے۔
بات صرف زبان تک محدود ہوتی تو ٹھیک تھا لیکن لسانی اثرات کے ساتھ جدید نسل میں تہذیبی اثرات  بھی اس قدر سرایت کر چکے ہیں کہ انہیں اپنی زبان و تہذیب  کا پاس و لحاظ دقیانوسی باتیں محسوس ہونے لگی ہیں۔

دور حاضر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے اس دور میں  جدید نسل کا ناطہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے جڑا ہوا ہے   اور سوشل ویب سائٹس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ بر صغیر ایشیا میں لوگ فیس بک نامی وبائی مرض کی جس طرح لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں اس سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہیں۔ ڈیجٹل میپ ایشیا کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2012 میں  صرف انڈیا کے فیس بک صارفین کی تعداد  43,497,980 سے متجاوز کر چکی ہے۔

بچے ہوں یا بوڑھے، کیا   امیر کیا غریب، ہر کسی کو فیس بک کا چسکہ لگا ہوا ہے۔ اور کیوں نہ لگے؟ ایک طرف یہاں ہر کسی کے ذوق کے مطابق تفریح طبع کا سامان میسر ہے تو دوسری طرف اپنی تخلیقات و ذہنی اپج کو بہت ہی کم عرصہ میں دوسروں تک پہنچانے کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔
جہاں ایک طرف ان ویب سائٹس کی افادیت مسلم ہے   وہیں دوسری طرف ان ویب سائٹس پر روز بروز  فحاشی ، بیہودگی اور عریانیت  سے سلیم الفطرت نفوس پریشان ہیں کہ ان کے اثرات سے ہماری نسلوں کی حفاظت کیسے ہو، ہماری لسانی تہذیبی اور ثقافتی قدروں کی کس طرح حفاظت کی جائے؟
چونکہ ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں زبان و ادب کا بڑا  اہم حصہ ہوتا ہے اس لیے کافی دنوں سے یہ کوششیں کی جا رہی ہیکہ اردو زبان کو کمپیوٹر  و انٹرنیٹ سے جوڑا جائے اس کے لیے دنیا بھر سے بہت ساری ویب سائٹس بھی تیار کی گئی لیکن اکثر ویب سائٹس عمدہ مشمولات کے با وجود اپنے امیج فارمیٹ کی وجہ سے اردو داں حضرات کی توجہ مبذول کرنے میں ناکام رہی ۔ ہندوستان سے تحریر ی اردو (یونیکوڈ) ویب سائٹس بہت کم نظر آتی ہیں لیکن جو موجود ہیں وہ بھی بے توجہی کا شکار ہیں۔

بعض فکر مند احباب ایک عرصہ سے یونیکوڈ اردو کی ہندوستان میں ترویج و ترقی کے لیے کوشاں ہیں تاکہ زمانہ کی رفتار کے ساتھ ہماری زبان بھی ترقی کر سکے۔
چونکہ آج کل سوشل ویب سائٹس کا بہت بول بالا ہے اور خواص و عوام دونوں اس سے جڑے ہوئے ہیں اس لیے  حیدر آباد سے اعجاذ عبید صاحب اور منماڑ سے ڈاکٹر سیف قاضی نے اپنی مشترکہ کوششوں سے اردو کو خواص سے نکال کر عوامی سطح پر لانے ،  اردو رسم الخط کی ترویج و ترقی ، صالح اقدار کے فروغ اور  مثبت سماجی روابط کی برقراری کے لیے اردو داں طبقے کی خاطر ایک  غیر منفعتی اردو سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹ  کا آغاز کیا ہے۔

26 جنوری 2013 سے اس اردو سوشل نیٹورک کا آغاز عمل میں آیا ہے ۔جسے اس پتہ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویب کے منتظمین نے اردو طبقے سے گزارش کی ہے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کریں۔
محض مشاہدہ کرنے یا شمولیت اختیار کرنے کے لیے یہاں تشریف لائیں۔




سوموار، 4 فروری، 2013

دنیا کی اولین غیر منفعتی اردو سوشل نیٹورکنگ ویب کا آغاز


محترم قارئین بلاگ !
آپ سوچ رہے ہوں گے اتنے  دن ہو گئے ہماری کوئی پوسٹ نہیں آئی ۔۔ آخر ہم کہاں کھو گئے ؟ در اصل ہم  ایک انتہائی اہم کام میں مصروف تھے۔ اور ماشا ءاللہ آج آپ حضرات کے لیے ایک بڑی خوشخبر ی لے کر حاضر ہوئے ہیں۔
آپ کو یہ اطلاع دیتے ہوئے مجھے از حد خوشی محسوس ہو رہی ہیکہ ہندوستان سے دنیا کی اولین اردو سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹ کا قیام عمل میں آ چکا ہے ۔
جی ہاں یہ سچ ہے ۔۔ یقین نہیں ہوتا ؟

اچھا تو لیجیے ہم آپ کو لنک دیتے ہیں خود ہی دیکھ لیجیے ۔۔۔