جمعرات، 15 نومبر، 2012

اپنی ڈائری سے ۔ ۔ ۔

اپنی ڈائری سے ۔۔۔۔

(یہ تحریر  06/11/2006 کی ہے آج اتفاقاً اپنی  پرانی تحریر پر نظر پڑی تو و دلچسپی کے لحاظ سے سوچا  یہ مزیدار تحریر یہاں  پوسٹ کروں۔ )

رات میں ڈاکٹر سیف ا لدین کے یہاں RMO  کے فرائض انجام دے رہا ہوں۔ ہاسپٹل میں زیادہ  IPD  ہوتی نہیں ہے محض کوئی بھولا بھٹکا Emergency Case  آ ئے تو وہاں اپنی قابلیت کے جوہر دکھانے پڑتے ہیں اور پھر آرام سے سونا !!
کل رات میں سونے کی کوشش کر رہا تھا کہ اچانک کال بیل کی آواز سے لاحول پڑھتا ہوا اٹھا ۔ ۔ ۔ Emergency  میں جا کر دیکھا تو ایک حسینہ میک اپ میں لدی پھندی ، کہنیوں تک مہندی سجائے ہوئے بستر پر کراہ رہی تھی۔
مختصر حالات معلوم کر نے کے بعد پتا چلا کہ نا معلوم گولی کھانے سے گھبراہٹ شروع ہوئی ، لیکن معائنہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہونچا کہ شاید یہ نفسیاتی مریضہ ہے ۔ ۔ ۔
پھر بھی احتیاطاً ایک Avil  انجکشن دے دیا تا کہ اگر میری تشخیص میں کوئی غلطی بھی ہو رہی ہو تو محترمہ کو قدر راحت مل جائے۔ اور پھر ۔ ۔ ۔جیسا کہ اور نفسیاتی مریضوں کو ضرورت ہوتی ہے توجہ اور ذہنی سکون کی ۔ ۔ ۔ ایک گلوکوذ لگا کر اس میں ذہنی سکون کے لیے تھوڑی سی آئی وی دوائی ملا دی۔
اپنی کیبن میں آکر اس حسینہ کے ساتھ آئے ہوئے معصوم نوجوان سے History پوچھا تو وہ معصوم نہیں مظلوم نکلا۔
قصہ یوں تھا کہ محترمہ کی شادی ہوئے صرف دودن کاعرصہ گذرا تھا اور پچھلے دودن سے وہ Anxiety Disorder کا شکار تھی۔ میں نے مزید تفصیلات معلوم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کیونکہ اس معصوم شوہر کا چہرہ ہی طویل داستان بیان کر رہا تھا۔
میرے لیے ایک بڑی مصیبت یہ تھی کہ اس لڑکی کے میکے و سسرال والے تمام لوگ جمع ہو گئے تھے اور ہر ایک کا یہی سوال تھا کہ " ڈاکٹر صاحب ان کو کیا ہو گیا ؟"
خیر تمام تر الزامات دواؤں کے مضر اثرات کے سر تھونپ کر میں مظلوم شوہر کے حق میں دعا کرتا ہوا سو گیا  ؛) 

8 تبصرے:

  1. بہت خوب ۔ میں ڈاکٹر نہیں ہوں لیکن ایسے چند بیمار اتفاق سے دیکھ چکا ہوں ۔ ویسے میں کچھ اور سمجھا تھا ۔ پرانی بات ہے ۔ میرے ایک دوست داکٹر نے مجھ ٹیلیفون کر کے بلایا ۔ ابھی بات شروع نہیں ہوئی تھی کہ ایک اسی طرح کی عورت نے جھانکا ۔ ڈاکٹر نے کہا ”بی بی ۔ تھوڑا انتظار کریں“۔ جب وقفے وقفے سے اس نے تیسری بار جانکاہ تو ڈاکٹر سمجھا شاید ایمرجنسی ہے ۔ اُس نے آنے کا کہا تو بولی ”ٹیلیفون کرنا ہے“۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. شکریہ افتخار اجمل صاحب ۔ ۔ ۔ نفسیاتی مریض ڈاکٹر کے لیے جہاں ایک طرف تفریح کا باعث ہوتے ہیں وہی دوسری طرف بعض اوقات بلا بن کر بھی نازل ہوتے ہیں۔ اور ایسے مریضوں سے نمٹنا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔

      حذف کریں
  2. اتنی جلدی ختم کردی بات؟
    شاہو

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. بھائی شاہو یہ ہمارا بلاگ ہے ۔ ۔ ۔ منٹو کا افسانہ نہیں۔۔:ڈ

      حذف کریں
  3. بھائی جان !
    اچھی تحریر ہے ،پڑھا کر مزا آیا ،تھوڑا مزاح بھی اور معلماتی بھی اب ڈائری نہیں لکھ رہے کیا میرے خیال میں اب بھیآ پو کو یہ سلسکہ جاری رکھنی چاہئے

    جواب دیںحذف کریں
  4. شکریہ علم ،
    وقت وقت کی بات ہوتی ہے اب تو خد کے لیے بھی وقت نہیں ملتا ، ڈائری لکھنا تو بڑی بات ہے۔

    جواب دیںحذف کریں

غیر اخلاقی و مضمون سے مناسبت نہ رکھنےوالے تبصرے حذف کر دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ذاتیات پر تنقید و نظریاتی اختلافات کی بناء پر انتہا پسندی والے تبصرے بھی شامل نہیں کئے جائیں گے۔