جمعرات، 11 اکتوبر، 2012

سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کا دعوتی پہلو

سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کا دعوتی پہلو

پوری دنیا میں  کفر ایک پرچم تلے جمع ہو کر جس طرح اسلام کے خلاف سازشیں کر رہا ہے جس طرح مسلمانوں کی شبیہ کو خراب کیا جا رہا ہے اسلام کو (نعوذباللہ ) جنگجو مذہب اور اس کے پیروکاروں کو دہشت گرد اور اس سے بھی بڑھ کر حیوان کا خطاب دیا جا رہا ہے ۔ اسلام دشمنی اور مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنا گویا آج کا فیشن بن چکا ہےوہ ہر با شعور مسلمان پر عیاں ہے  ایسے حالات میں مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ  وہ اعداء کی چالوں کو سمجھتے  ہوتے ہوئے تشدد کی راہ اختیار کیے بغیر اسلامی تعلیمات کو موثر طریقہ سے عام کرنے کی کوشش کریں۔دعوت  ۔ ۔  دین کا ایک بڑا شعبہ ہے اور افسوس کے ہم نے اسی شعبے سے بے انتہا غفلت برتی ہے ۔ افسوس کہ ہمارے اخلاق و کردار کی گراوٹ  اور آپسی انتشار نے دوسرے مذاہب  کے ماننے والوں کے سامنے اسلام کی انتہائی متضاد تصویر پیش کی ہے ۔  اور پھر اسلام کے خلاف دشمنوں کے پروپیگنڈے نے غیر مسلموں کے ذہن میں اسلام کی نہایت مسخ شدہ شکل راسخ کر دی ہے۔ دور حاضر میں اسلام دشمن عناصر  سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کو اسلام کو بدنام کرنے کا ایک بڑا حربہ بنا چکے ہیں۔ آئے دن ہم دیکھتے ہیں کہ  جھوٹی تصاویر اور فرضی کہانیاں ان ویب سائٹس پر شائع کر کے مسلمانوں کی نہایت قبیح تصویر پیش کی جاتی ہے ۔
اور ان سائٹس پر مسلم نوجوانوں پر نظر کی جائے تو ۔۔۔ علامہ اقبال کا یہ مصرعہ صادق آتا ہے۔

یہ مسلماں کہ جنہیں دیکھ کر شرمائے یہود


مسلم نوجوانوں  کو  غیر اخلاقی مواد شائع کرنے اور فحش تبصروں و فلرٹنگ سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ جن میں کچھ اسلامی شعور پایا جاتا ہے وہ بھی محض نظریاتی بنیاد پر ایک دوسرے کی تردید کرتے نظر آتے ہیں۔کچھ صاحب نظر اللہ کے بندے کوشش کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں لیکن  نقار خانے میں طوطی کی آواز کو ن سنے کی مصداق ان کی پوسٹس بھی دب جاتی ہیں۔
غور کیا جائے تو یہ سوشل ویب سائٹس ہمیں دعوت کا ایک بہت بڑا موقعہ فراہم کرتی ہے ۔ ہمارے دوستوں میں اکثر غیر مسلم برادران وطن بھی شامل ہوتے ہیں جن تک ہم براہ راست اسلام کی دعوت پہنچانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں تک اسلامی تعلیمات پہونچانے میں سوشل ویب سائٹس انتہائی اہم رول ادا کر سکتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہم ہمہ وقت مبلغ بن کر ان لوگوں کے پیچھے پڑ جائے۔ لیکن جہاں ہم دن میں دس تبصرے اور پوسٹس کرتے ہیں کیا وہاں ہم کسی ایک پوسٹ میں اسلامی تعلیمات کو پیش نہیں کر سکتے ؟ ہمیں اپنی ٹائم لائن پر جب گوتم بدھ، مہاویر ، سوامی وویکانند  وغیرہم کے اقوال نظر آتے ہیں تو کیا ہم فرزندان اسلام ہونے کے ناطے معاشرے میں پھیلے ہوئے اخلاقی رذائل سے متعلق حضور اقدسﷺ کی ایک حدیث نہیں پیش کر سکتے ؟  اسلامی تعلیمات میں اتنی کشش موجود ہے کہ وہ پتھر سے پتھر دل کو موم بنا دیتی ہے ۔ ہمارا تجربہ ہیکہ اصلاحی اقوال اور حق باتوں کی تشہیر کے لیے زیادہ محنت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے یہ سلسلہ شروع کرنے کے بعد نیک روحیں خود بخود کھینچی چلی آتی ہے اور بہت سارے غیر مسلم حضرات بھی نہ صرف ان باتوں کو پسند کرتے ہیں بلکہ اپنی ٹائم لائن پر ان چیزوں کا اشتراک بھی کرتے ہیں۔یہاں میں ایک انتہائی اہم امر کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ بعض جوشیلے نوجوان اسلامی تعلیمات شئیر کرنے کی بجائے  براہ راست گیتا اور وید سے کہیں کچھ حوالے لاکر اسلام کی حقانیت کا ثبوت پیش کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ میں ان لوگوں سے نہایت ادب کے ساتھ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ موجودہ حالات اور حکمت کا تقاضہ یہ ہیکہ پہلے اسلامی تعلیمات کے ذریعے غیر مسلم بھائیوں کے دلوں اسلام اور مسلموں کے تعلق سے چڑھا ہوا زنگ صاف کیا جائے تب ہی اس طرح کی کوششیں کامیاب ہوگی جن کے ذہن مسلمانوں کے تئیں صاف نہیں ہے اور جن کی حالت یہ ہیکہ انہیں خود ان کی مقدس کتابوں کے نام تک نہیں پتا وہ ایسے حوالوں سے قریب آنے کی بجائے ہم سے متنفر ہو جاتے ہیں۔
اس بات کی اشد ضرورت ہیکہ ہم  اپنے اخلاق و کردار کی گراوٹ کو دور کرنے کی ہمیشہ کوشش جاری رکھیں۔ سوشل ویب سائٹس پر فحش اور غیر اخلاقی حرکتوں سے اپنے آپ کو بچائیں اور جن لوگوں کو اللہ نے صلاحیتوں سے نوازا ہے وہ  سوشل ویب سائٹس کے اس دعوتی پہلو کا خوب فائدہ اٹھائیں۔ جو لوگ ہندی اور انگریزی سے اچھی واقفیت رکھتے ہیں  وہ اسلامی تعلیمات کو ہندی اور انگریزی زبانوں میں بہترین انداز میں کمپوز کر کے پوسٹ کریں اور دوسرے احباب ان پوسٹ کو اشتراک کریں۔


 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

غیر اخلاقی و مضمون سے مناسبت نہ رکھنےوالے تبصرے حذف کر دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ذاتیات پر تنقید و نظریاتی اختلافات کی بناء پر انتہا پسندی والے تبصرے بھی شامل نہیں کئے جائیں گے۔