بدھ، 9 مئی، 2012

پریشان کن فیس بک اطلاعات

                         کہوں کس سے میں کہ کیا ہے یہ  Tag  بری بلا ہے !


بر صغیر ایشیا میں لوگ فیس بک نامی وبائی مرض کی جس طرح چپیٹ میں آئے ہوئے ہیں اس سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہے۔ ڈجٹل میپ ایشیا کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2012 میں  صرف انڈیا کے فیس بک صارفین کی تعداد  43,497,980 سے متجاوز کر چکی ہیں۔
کیا بچے کیا بوڑھے ( ہم جوانوں کا تذکرہ نہیں کر رہے ہیں کیونکہ وہ   دیوانے ہوتے ہی ہیں ) کیا امیرکیا غریب ہر ایک کو فیس بک کا چسکہ لگا ہوا ہے۔ اور کیوں نا لگے؟ ایک طرف یہاں ہر ایک کے ذوق کے مطابق تفریح طبع کا سامان میسر ہے تو دوسری طرف یہ اپنی تخلیقات و ذہنی اپج بہت ہی کم عرصہ میں دوسروں تک پہنچانے کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔
یہاں تک تو ٹھیک ہے ہمارے مضمون کے لیے تمہید بھی خوب بندھ گئی اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔
چونکہ گوگل پلس کے آنے کے بعد فیس بک نے  کاپی کیٹ (Copy Cat ) بنتے ہوئے اپنے اندر  بہت ساری تبدیلیاں کی ہیں اس لیے روایتی دوستوں کی حدود کو پار کرتے ہوئے ہم نے بھی کچھ احباب کے دوستی کے لیے بڑھے ہوئے ہاتھ تھامے تھے اور اسی طرح جو لوگ ہمارے معیار پر پورے اترے تھے ان کی طرف ہم نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا بھی تھا۔
لیکن کسے معلوم تھا کہ یہ "مفید اضافہ" عذاب جان بن جائے گا۔ مسئلہ یوں ہوا کہ چونکہ ہمیں شعر و شاعری سے کچھ شغف وراثت میں ملا ہے اور کچھ ہمارا اپنا ذاتی ہے  لھٰذا ہمارے فیس بک حلقہ احباب میں ایسے لوگ جمع ہوگئے جو شاعری سے ( فصیح اردو کا ستعمال کرتے ہوئے کہوں تو )علاقہ رکھتے ہیں۔
تو حضرات اب ایسے نوخیز شاعروں کو   اپنا کلام سنانے کے لیے کسی کی آؤ بھگت  ، زور زبردستی  چائے خانہ میں اپنا وقت گنوانے کی چندہ ضرارت نہیں پڑتی ہے ۔۔۔۔
ہر پانچ منٹ مین ایک غزل  تیار کر لی جاتی ہے اور بقول غالب ۔ ۔ ۔
گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی!
کے مصداق فیس بک پر پوسٹ کر دیتے ہیں اور جناب پھر داد وصولی کا وہ صلصلہ شروع ہو جاتا ہے جس کے احوال ہم الفاط میں بیاں کرنے سے قاصر ہیں۔




خدایا ! دن میں 10 فوٹو ٹیگ اور پھر ایک فوٹو پر کم از کم 25 تبصرے۔ ۔ ۔


ہم دن بھر کے تھکے ماندے  ۔ ۔ ۔ (ملحوظ رہے کہ ہم یہاں بیگم کی ڈانٹ پھٹکار کا ذکر نہیں کر رہے ہیں ۔۔ شادی شدہ افراد اندازہ قائم کر سکتے ہیں) سوچتے ہیں کہ چلو فیس بک پر ہی کچھ دیر تفریح طبع کرلیں ۔ ۔ تو جناب  تقریباً 15 سے بیس  احباب  بصورت فیس بک نوٹیفکیشن  قطار در قطار کھڑے داد و تحسین طلب کرنے کے لیے ہمارا منتظر پاتے ہیں۔  خیر۔۔ ۔  ہم اپنی دکھتی ہوئی پیٹھ اور موبائل کی بیٹری کی طرح ڈاؤن ہوتے ہوئے دماغ کی   کی پرواہ  نہ کرتے ہوئے  اپنی  مقتدرت اور نیٹ کنیکشن دونوں کے حق میں صحت کی دعا کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے  ان تمام نو خیز شاعروں کی داد و تحسین پانے کی خواہش مند پیٹھ تھپ تھپاتے ہوئے ۔ ۔ خود ہی سو جاتے ہیں۔
دوسری صبح  ہم گوگل کے کافی کان مروڑنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کوئی ایسا طریقہ ہمیں ہاتھ نہیں آتا جس سے اس tagging  سے چھٹکارا حاصل ہو۔ تا حال صرف ایک طریقہ سمجھ میں آیا ہے کہ Approve tag permission  کو On کیا جائے اور جب بھی کوئی ٹیگ کریں like  اور ایک مختصر سا تبصرہ کرنے کے بعد  Remove Tag اور unfollow post  کر کے اس بمباری سے نجات حاصل کی جائے لیکن ۔ ۔ ۔
جب تک آپ کسی کو Unfriend نہ کر دیں یہ نوٹیفکیشن کا عذاب جاری رہتا ہے۔


 

2 تبصرے:

  1. sir, kya baat hai aap ne bhut hi zaberdast article likha hai. aap ke 3-4 articles padha hoon , Acidity wala article bhi bhut pasand aaya,Mumkin ho to aap ke saare articles facebook pr bhi post kty accha hota, bcz blog pr jyada nazer nhi padhti, aur main chahta hoon ke itne acche maloomati aricles ko miss na kron. :) :)

    جواب دیںحذف کریں
  2. میں تو سیدھا سا کہہ دیتا ہوں کہ بھائی مجھے ٹیگ نہ کرو۔ اور لوگ بعض بھی آجاتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں

غیر اخلاقی و مضمون سے مناسبت نہ رکھنےوالے تبصرے حذف کر دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ذاتیات پر تنقید و نظریاتی اختلافات کی بناء پر انتہا پسندی والے تبصرے بھی شامل نہیں کئے جائیں گے۔