بدھ، 30 مئی، 2012

دائیں کلک کو غیر فعال کریں



"اپنی تحریر کاپی ہونے سے بچائیں "
دائیں  کلک کو کس طرح غیر فعال کریں؟۔

شاید ہماری گذشتہ تحریر آپ کی نظروں سے گذ ری ہوگی جس میں ہم نے یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ اگر کوئی آپ کے بلوگ سے  contents  چوری کرنا چاہے تو اسے کاپی رائٹ سے خبردار کیسے کیا جائے ۔ یا اگر کوئی نیک نیتی سے بھی کاپی کر رہا ہو تو بذات خود آپ کا لنک کیسے چسپاں ہو جائے  جن حضرات نے وہ آرٹیکل نہیں پڑھا ہے وہ  اسے یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ ۔
آج ہم آپ کے ساتھ اپنے کاپی رائٹ محفوظ کرنے کا ایک دوسرا طریقہ شیئر کر رہے ہیں۔یہ طریقہ ان ڈھیٹ قسم کے لوگوں کے لیے ہیں جو آپ کے کاپی رائٹس کی پرواہ نہیں کرتے اور نہ ہی آپ کا حوالہ اور لنک دینا مناسب سمجھتے ہیں۔
اس طریقہ کو استعمال کرنے کے بعد آپ کے بلوگر بلاگ پر دائیں یا بائیں طرف کلک غیر فعال ہو جاتا ہے  اور آپ کے بلاگ سے کوئی کاپی پیسٹ نہیں کر پاتا۔



طریقہ بلکل آسان ہے ۔ ۔ ۔ اپنے بلوگر ڈیش بورڈ میں جاکر  lay out    پر کلک کریں  ۔
اب آپ کو  Add a new Gadget  پر کلک کرنا ہے ۔ اس کے بعد  HTML/ Javascript  پر کلک کیجیے اور مندرجہ ذیل کوڈ چسپاں کر دیں۔


<script language=javascript>
<!--

//Disable right mouse click Script
//By Being Geeks
//For full source code, visit http://www.beinggeeks.com

var message="Function Disabled!";

///////////////////////////////////
function clickIE4(){
if (event.button==2){
alert(message);
return false;
}
}

function clickNS4(e){
if (document.layers||document.getElementById&&!document.all){
if (e.which==2||e.which==3){
alert(message);
return false;
}
}
}

if (document.layers){
document.captureEvents(Event.MOUSEDOWN);
document.onmousedown=clickNS4;
}
else if (document.all&&!document.getElementById){
document.onmousedown=clickIE4;
}

document.oncontextmenu=new Function("alert(message);return false")

// -->
</script>

تبدیلیاں محفوظ کریں اور یہ ٹرک اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔
 

منگل، 15 مئی، 2012

آخر ہمارا بلوگ پچاس ہزاری بن گیا !


آخر ہمارا بلوگ پچاس ہزاری بن گیا !

کافی عرصہ پہلے جب ہمارا تعارف انٹر نیٹ سے ہوا تھا اور جب ہم نے کچھ پرسنل بلاگس دیکھے تو ہمارے دل میں بھی یہ خیال مچلنے لگا کہ کیوں نہ ہمارا بھی ایک 'ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو ' ہو۔ ۔ ۔ بس جناب خیال کا آنا تھا کہ آناً فاناً ایک بلوگ بھی تیار ہو گیا  چونکہ اردو شاعری سے ہمارا رشتہ بچپن سے ہی  کافی مضبوط رہا ہے اس لیے ہم نے میدان شاعری کا شہسوار بننا ہی مناسب سمجھا اور " نقوش سخن " کے عنوان سے پوسٹنگس شروع کر دی۔
ہماری اولین پوسٹنگس کیا تھی ؟ جناب موبائل پر  رومن اردو میں کوئی شعر ٹائپ کیا اور بلوگر کو میل کر دیا۔ یہ سلسلہ کچھ دنوں تک چلتا رہا اور اس زمانہ میں ہم اپنے بلوگ کے واحد ریڈر ہوا کرتے تھے۔
گذشتہ سال ہم نے کمپیوٹر خریدا ۔ ۔سب سے پہلے حضرت ماؤس سے دوستی کی ۔ ۔ ۔ کیونکہ انہیں میں کسی اور طرف چلانا چاہتا اور وہ کسی اور طرف چلتے۔۔۔اس کے بعد ماشاءاللہ کچھ اپنی ذاتی قابلیت اور گوگل کی دوستی کام آئی اور انتہائی قلیل عرصہ میں ان پیج ، ٖوٹو شاپ اور کورل ڈرا ہمارے آگے سر تسلیم خم کرنے لگے۔
کچھ SEO  کی برکتیں اور کچھ ہماری اپنی کوششیں رنگ لائی اور ماشاءاللہ آج اگر آپ گوگل میں Urdu Shairy سرچ کریں تو ہمارا بلوگ ٹاپ ٹین کی فہرست میں نظر آئیگا اور اگر آپ Urdu Shairy in Urdu font  تلاش کریں تو الحمدللہ ہمارا بلوگ سر فہرست نظر آئیگا۔
گذشتہ  3 مہینہ سے ہمارے بلوگ کے زائرین کی تعداد اوسطاً چھ ہزار سے زائد ہے جو  خالص اردو شاعری سے متعلق محض  130 پوسٹس والے بلوگ کے لیے نہایت خوش آئند بات ہے۔


بدھ، 9 مئی، 2012

پریشان کن فیس بک اطلاعات

                         کہوں کس سے میں کہ کیا ہے یہ  Tag  بری بلا ہے !


بر صغیر ایشیا میں لوگ فیس بک نامی وبائی مرض کی جس طرح چپیٹ میں آئے ہوئے ہیں اس سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہے۔ ڈجٹل میپ ایشیا کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2012 میں  صرف انڈیا کے فیس بک صارفین کی تعداد  43,497,980 سے متجاوز کر چکی ہیں۔
کیا بچے کیا بوڑھے ( ہم جوانوں کا تذکرہ نہیں کر رہے ہیں کیونکہ وہ   دیوانے ہوتے ہی ہیں ) کیا امیرکیا غریب ہر ایک کو فیس بک کا چسکہ لگا ہوا ہے۔ اور کیوں نا لگے؟ ایک طرف یہاں ہر ایک کے ذوق کے مطابق تفریح طبع کا سامان میسر ہے تو دوسری طرف یہ اپنی تخلیقات و ذہنی اپج بہت ہی کم عرصہ میں دوسروں تک پہنچانے کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔
یہاں تک تو ٹھیک ہے ہمارے مضمون کے لیے تمہید بھی خوب بندھ گئی اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔
چونکہ گوگل پلس کے آنے کے بعد فیس بک نے  کاپی کیٹ (Copy Cat ) بنتے ہوئے اپنے اندر  بہت ساری تبدیلیاں کی ہیں اس لیے روایتی دوستوں کی حدود کو پار کرتے ہوئے ہم نے بھی کچھ احباب کے دوستی کے لیے بڑھے ہوئے ہاتھ تھامے تھے اور اسی طرح جو لوگ ہمارے معیار پر پورے اترے تھے ان کی طرف ہم نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا بھی تھا۔
لیکن کسے معلوم تھا کہ یہ "مفید اضافہ" عذاب جان بن جائے گا۔ مسئلہ یوں ہوا کہ چونکہ ہمیں شعر و شاعری سے کچھ شغف وراثت میں ملا ہے اور کچھ ہمارا اپنا ذاتی ہے  لھٰذا ہمارے فیس بک حلقہ احباب میں ایسے لوگ جمع ہوگئے جو شاعری سے ( فصیح اردو کا ستعمال کرتے ہوئے کہوں تو )علاقہ رکھتے ہیں۔
تو حضرات اب ایسے نوخیز شاعروں کو   اپنا کلام سنانے کے لیے کسی کی آؤ بھگت  ، زور زبردستی  چائے خانہ میں اپنا وقت گنوانے کی چندہ ضرارت نہیں پڑتی ہے ۔۔۔۔
ہر پانچ منٹ مین ایک غزل  تیار کر لی جاتی ہے اور بقول غالب ۔ ۔ ۔
گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی!
کے مصداق فیس بک پر پوسٹ کر دیتے ہیں اور جناب پھر داد وصولی کا وہ صلصلہ شروع ہو جاتا ہے جس کے احوال ہم الفاط میں بیاں کرنے سے قاصر ہیں۔




خدایا ! دن میں 10 فوٹو ٹیگ اور پھر ایک فوٹو پر کم از کم 25 تبصرے۔ ۔ ۔


ہم دن بھر کے تھکے ماندے  ۔ ۔ ۔ (ملحوظ رہے کہ ہم یہاں بیگم کی ڈانٹ پھٹکار کا ذکر نہیں کر رہے ہیں ۔۔ شادی شدہ افراد اندازہ قائم کر سکتے ہیں) سوچتے ہیں کہ چلو فیس بک پر ہی کچھ دیر تفریح طبع کرلیں ۔ ۔ تو جناب  تقریباً 15 سے بیس  احباب  بصورت فیس بک نوٹیفکیشن  قطار در قطار کھڑے داد و تحسین طلب کرنے کے لیے ہمارا منتظر پاتے ہیں۔  خیر۔۔ ۔  ہم اپنی دکھتی ہوئی پیٹھ اور موبائل کی بیٹری کی طرح ڈاؤن ہوتے ہوئے دماغ کی   کی پرواہ  نہ کرتے ہوئے  اپنی  مقتدرت اور نیٹ کنیکشن دونوں کے حق میں صحت کی دعا کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے  ان تمام نو خیز شاعروں کی داد و تحسین پانے کی خواہش مند پیٹھ تھپ تھپاتے ہوئے ۔ ۔ خود ہی سو جاتے ہیں۔
دوسری صبح  ہم گوگل کے کافی کان مروڑنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کوئی ایسا طریقہ ہمیں ہاتھ نہیں آتا جس سے اس tagging  سے چھٹکارا حاصل ہو۔ تا حال صرف ایک طریقہ سمجھ میں آیا ہے کہ Approve tag permission  کو On کیا جائے اور جب بھی کوئی ٹیگ کریں like  اور ایک مختصر سا تبصرہ کرنے کے بعد  Remove Tag اور unfollow post  کر کے اس بمباری سے نجات حاصل کی جائے لیکن ۔ ۔ ۔
جب تک آپ کسی کو Unfriend نہ کر دیں یہ نوٹیفکیشن کا عذاب جاری رہتا ہے۔


 

جمعرات، 3 مئی، 2012

ایک گدھے کی سرگزشت

ایک گدھے کی سر گزشت

اگر آپ عنوان پڑھ کر یہ اندازہ قائم کر رہے ہوں کہ یہ کسی قومی لیڈر کی یا کسی ایسے جاہل مولوی کی سرگزشت ہے جو اپنی منفی ذہنیت کی بنا پر ملت کے ٹکڑے کرنے پر تلا ہے تو آپ کا اندازہ غلط ہے یہ حقیقتاً ایک ایسی مخلوق کی سرگزشت ہے جسے ہم پیار یا غصہ دونوں حالتوں میں گدھا  ہی کہتے ہے۔



جی ہاں دوستوں !ہم طنز و مزاح کی تلاش میں اردو دوست ڈاٹ کام پر پہونچے تو یہ کتاب وہاں نظر آئی ۔ یہ کتاب اردو کے ایک بہترین مزاح نگارجناب کرشن چندر کی ہے اور آپ اردو دوست ڈات کوم سے اسی مفت ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں
بھئی ! ہم تو پڑھ کر بڑے محظوظ ہوئے اب آپ کی باری ہے۔


ڈاونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں


 

منگل، 1 مئی، 2012

جی میل اور بلاگر میں دستخط

جی میل اور بلاگر میں اپنی دستخط کیسے شامل کریں۔

جی میل اور بلاگر میں اپنی دستخط شامل کرنا ایک انتہائی سہل بات ہے ! یہ سیٹنگس پہلے سے وہاں موجود ہوتی ہے لیکن ہم میں سے اکثر افراد اس سے لا علم ہوتے ہیں۔
اس سے پہلے کہ ہم آپ کو اس کا طریقہ کار بتائے آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا آپ کو اپنی تحریر میں دستخط شامل کرنا ہے یا کسی Online signature creator  کی مدد حاصل کرنی ہے۔ اگر آپ  کو اپنی تحریر میں دستخط شامل کرنا ہے تو ہمیں ایک scanner  کی مدد درکار ہوگی۔
کسی کاغذ پر اپنی دستخط کیجیے اور اب اسے scanner کی مدد سے اپنے کمپیوتر میں محفوظ کیجیے۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو کسی فوٹو ایدیٹنگ سافٹ ویئر کی مدد سے اس امیج کو resize کر لیں تا کہ دستخط بہت زیادہ بڑی نا دکھائی دے۔
اگر آپ کی تحریر آپ کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ آپ دوسروں کے ساتھ شیئر کریں تو  آپ Online Signature Creator  سافٹ ویئر کی مدد سے بہترین دستخط حاصل کر سکتے ہیں۔ آن لائن دستخط حاصل کرنے کے لیے درج ذیل ربط  پر کلک کریں۔
آن لائن دستخط تیار کرنے کے بعد اب اسے اپنے کمپیٹر میں محفوظ کر لیجیے۔
 چاہے آپ کی اپنیscan    کی ہوئی دستخط ہو یا آن لائن تیار کی گئی دستخط  آپ کو انہیں کسی امیج ہوسٹنگ ویب پر save کرنا ہوگا۔ ہمارا تجربہ ہے کہ بلوگر کے لیے picasa web albums  بہتر کام کرتا ہے۔

بلوگر میں دستخط شامل کرنے کا طریقہ

1 بلاگر ڈیش بورڈ میں جائیے اور اب settings  کلک کیجیے۔
2۔ سیٹنگس کلک کرنے کے بعد آپ کو Posts and Comments پر کلک کرنا ہے۔ درج ذیل تصویر نظر آئیگی۔



تصویر کے مطابق Post template کے سامنے add پر کلک کریں۔ اور مندرجہ ذیل کوڈ چسپاں کر دیں۔



<div style="float:right"><img src="YOUR IMAGE URL" border="0"/> </div>

امیج URL  میں جو امیج آپ نے پہلے upload کی تھی اس کا url چسپاں کرنا ہوگا۔
اس سیٹنگ کو save کر لیجیے اب نئی پوسٹ میں آپ کی دستخط ازخود شامل ہو جائے گی۔

جی میل میں دستخط شامل کرنے کا طریقہ

جی میل سائن ان کرنے کے بعد دائیں کارنر میں سیٹنگس والے نشان پر کلک کریں اور ڈراپ ڈاؤن  اختیارات میں سے settings  پر کلک کریں۔
اب جنرل میں آپ کو بہت سارے  options  نظر آئینگے ان میں سے تصویر میں بتائے گئے طریقہ کے مطابق signature  کے سامنے والے دائرے کو کلک کریں۔




اب تصویر کے مطابق Insert image والے نشان پر کلک کریں۔
Add image URL  میں آپ کو وہ امیج یو آر ایل paste کرنا ہے جو آپ کو picasa یا کہیں اور اپنی دستخط upload کرنے کے بعد حاصل ہوا تھا۔
اس سیٹنگ کو save کرنے کے بعد جب کبھی آپ ای میل کرینگے ۔ ۔ ۔دستخط خود بخود شامل ہو گی۔