اتوار، 1 اپریل، 2012

تیزابیت


تیزابیت کیوں بڑھتی ہے؟
ڈاکٹر صاحب مجھے  جلدی چیک کیجیے  کیا ہو گیا ۔ ۔  ۔۔  اف سینے میں درد ہو رہا ہے  اور چکّر بھی آ رہے ہیں ۔۔  یااللہ کہی یہ دل کا دورہ تو نہیں ہے ؟ شاید بی پی بڑھ گیا ہو ؟ جب ہم نے اپنی پریکٹس کی شروعات کی تھی تو مریض کے ساتھ ساتھ ہم بھی خوفزدہ ہو جاتے تھے  ضرور یہ دل کا دورہ ہے ۔ لیکن  گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ہم بھی سیکھ گئے کہ کن امراض میں اس طرح کی علامات نظر آتی ہے۔
روزانہ ایسے کئی مریض ڈر و خوف کے عالم میں دواخانہ آتے ہیں لیکن تفصیلی معائنہ کرنے  کے بعد سمجھ میں آتا ہے کہ یہ دل کا  دورا نہیں بلکہ بڑھی ہوئی تیزابیت کے اثرات ہیں ۔  بچپن میں ہم اکثر دیکھتے تھے کہ تیزابیت سے عام طور سے عمر رسیدہ اشخاص ہی متاثر ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کو دوران سفر بھی اپنے ساتھ چورن کی ڈبّی رکھنی پڑتی تھی ۔ لیکن اب تو یہ نوبت آگئی ہیکہ
کیا بوڑھا کیا جوان  ۔ ۔ ہر کوئی ایسیڈتی سے ہے پریشان۔۔۔۔
برّصغیر ہند میں قیام پذیر لوگوں کی ایسیڈتی بڑھنا کوئی تعجّب خیز بات نہیں ہے بلکہ اگر دوسرے ممالک سے  موازنہ کیا جائے تو ایک سائنس کا طالبعلم اس بات پر اظہار حیرت کریگا کہ ہندستان و پاکستان والوں کی ایسیڈتی اتنی کم کیوں بڑھتی ہے۔ ہمارے یہاں کے کھانے  اس قدر مرغن اور مصالحہ دار ہوتے ہیکہ ہماری تیزابیت کا بڑھنا ایک لازمی شئے ہے۔ جی ہاں ! پوری دنیا میں سب سے زیادہ مصالحہ ہندستانی پکوان میں ہی استعمال کیا جاتا ہے۔
 کھانے کو چھوڑیے جناب ! نوجوانوں میں ایسیڈتی بڑھنے کا ایک اہم سبب چائے کی زیادتی اور  بے وقت کھانا ہے۔ آج کے اس مسابقتی دور میں ہماری مصروفیات کچھ اس طرح بڑھی ہوئی ہی کہ ہمیں سکون سے کھانا کھانے کی بھی فرصت نہیں ملتی۔ صبح ناشتے میں صرف چائے پی لی اور پھر چلتے چلتے کہیں باہر فاسٹ فوڈ کھا لیا ۔او ر پھر جہاں بھی کسی سے ملنے گئے  ہمارا استقبال  گرم چائے کی  پیالی سے کیا جاتا ہے ۔ دن بھر ایسی نا جانے کتنی گرم پیالیاں پینی پڑتی ہے  یہ چائے ہمارے معدہ میں پہونچ کر تیزابیت میں کئی گنا اضافہ کر دیتی ہے۔  بات صرف فاسٹ فوڈ اور چائے تک محدود ہوتی تو تھیک تھی لیکن اکثر نوجوان  سگریٹ کے بھی عادی ہوتے ہیں ۔جہاں کہیں ذرا موقعہ حاصل ہوا چائے کی دکان پر بیٹھے ہوئے سگریٹ کے بھی کش لے لئے۔۔۔  چٹ پٹا مصالحہ دار ناشتہ ، زیادہ دیر خالی پیٹ رہنا ، دن میں کئی مرتبہ چائے اور پھر اس پر ستم یہ کہ سگریٹ نوشی ۔۔  نتیجہ معدہ کے ورم کی شکل میں سامنے آتا ہے ۔
اسی طرح شراب کے عادی لوگوں میں بھی ایسیڈتی کافی بڑھی ہوئی ہوتی ہے اور کیوں نا بڑھے جب اللہ کے نبی ﷺ نے اسے امّ ا لخبائث قرار دیا ہے ۔
دیر رات تک جاگنا بھی تیزابیت میں کافی اضافہ کرتا ہے ۔ نیند اللہ کی بڑی نعمت ہے اللہ کے نبی ﷺ نے بھی جلدی سونے کی ہدایت دی ہے لیکن پھر بھی بعض لوگ بلا کسی وجہ کے دیر رات تک جاگتے رہتے ہیں بعض لوگوں کے نزدیک تو جلدی سونا دیہاتیوں کا سا طرز عمل ہے لیکن جلدی رات میں جلدی سونے اور صبح جلدی اٹھنے میں طبّی اعتبار سے بھی کئی فوائد پو شیدہ ہیں۔
پیٹ کی تکلیف کو لیکر کلنک میں آنے والے لوگوں میں اکثر لوگ وہ ہوتے یں جو رات کو دیر سے سوتے ہیں۔
ایسے لوگ جن کے اندر ڈر اور خوف زیادہ  ہو ، اور جو بہت زیادہ سوچنے کے عادی ہو وہ بھی اکثر بڑھی ہوئی تیزابیت کا شکار رہتے ہیں زیادہ سوچنے کی وجہ سے رات میں نیند نہیں آتی اور ذہن پر مسلسل دباؤ بنا رہتا ہے  زیادہ تفکّر کی وجہ سے معدہ میں ایسڈ کا سراؤ بڑھ جاتا ہے اورسزا نلتی ہے پیٹ کو !
سبزیوں میں میتھی کی بھاجی  ، بیگن ، مٹکی ، چنے وغیرہ کا تیزابیت بڑھانے میں کافی بڑا رول ہے۔ اسی طرح بیسن کی تلی ہوئی اشیا  ، گوشت چکن ، زیادہ مرچ والی غذائیں بھی تیزابیت میں خاطر خواہ اضافہ کرتی ہے۔
کھانے کے  بعد فوراً سو جانا اور رات میں دیر سے کھانا   ایسی عادتیں ہے تیزابیت کو بڑھاتی ہے  اگر رات میں کھانا جلدی کھا لیا جائے  تو  اور خاص طور سے رات میں مرغن و مسالحہ دار غذاؤں سے پرہیذ کیا جائے تو ایسیڈتی کو کافی حد تک  کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

4 تبصرے:

  1. It's so easy for you to criticize alcohol. Because its in line with Quran and Hadis. There is 10 times more, street drugs in Pakistan. ( but its not very Islamic to criticize heroine, charas because its not prohibited by brand).
    Ajaz

    جواب دیںحذف کریں
  2. بھائی میں نہیں جانتا کہ آپ کے ملک میں کیا ہو رہا ہے اور نہ ہی اس بلاگ کا مقصد مذہبیات سے بحث کرنا ہے لیکن آپ کا کمینٹ پڑھنے کے بعد مجھے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ آپ شاید میڈیا کی زبان ہی جانتے ہیں یہ سراسر بے بنیاد بات ے کہ قران و حدیث میں صرف شراب کہ متعلق ہی احکام موجود ہے ۔ کوئی بھی سلیم الفطرت شخص جب اسلامیات کا مطالعہ مستفیض ہونے کی غرض سے کرتا ہے تو اسے یہ اصول صاف نظر آتا ہے کہ اسلام ہر اس نشہ آور شئے کے خلاف ہے جو اس کی عقل پر حاوی ہو جائے ۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. بہت ٹھیک لکھا آ پ نے لیکن اس سے کیسے بچا جائے۔ مجھے بھی یہ تکلیف ہے اور جو آپ نے وجوہا ت لکھی ہیں با لکل ا یسا ہو نے کے سبب ہی تکا لیف ھو جا تی ہیں۔لیکن اب چھٹکارہ کیسے پائیں۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. حضرت میں نے اس مختصر سے آرٹیکل میں تیزابیت بڑھنے کی بہت ساری وجوہات بیان کر دی ہے اگر پرہیز کیا جائے تو تیزابیت کافی پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ کچھ خاص امراض میں بھی تیزابیت بڑھتی ہے جس کا پتا لگانا معالج کے ہی بس کی بات ہوتی ہے۔ کسی بھی مرض سے چھٹکارے کا انحصار تشخیص پر ہوتا ہے۔ چونکہ یہ مضمون عام قارئین کے لیے تحریر کیا گیا ہے اس لیے موٹی موٹی باتوں پر ہی اکتفا کیا۔

      حذف کریں

غیر اخلاقی و مضمون سے مناسبت نہ رکھنےوالے تبصرے حذف کر دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ذاتیات پر تنقید و نظریاتی اختلافات کی بناء پر انتہا پسندی والے تبصرے بھی شامل نہیں کئے جائیں گے۔