سوموار، 3 دسمبر، 2012

بلاگر کے لیے خوبصورت اردو سانچہ


بلاگر کے لیے خوبصورت اردو سانچہ

قارئین !
آج ہم بلاگر کے لیے ایک خوبصورت سانچہ پیش کر رہے ہیں امید ہے کہ پسند کیا جائیگا۔یہ سانچہ بلاگر کی سادہ تھیم کی مدد سے بنایا گیا ہے۔ جو احباب اس سانچہ کو استعمال کرنا چاہتے ہیں وہ اس بات کو ملحوظ رکھیں کہ سانچہ اپلوڈ کرنے کے بعد وجٹ اکثر بے ترتیب ہو جاتے ہیں لھٰذا  اگرآپ کے بلوگ کے ساتھ ایسی کوئی صورت پیش آئے تو وجٹ از سر نو ترتیب 
دیں۔



مکمل نمونہ دیکھنے کے لیےیہاں کلک کریں۔


ڈاونلوڈ کرنے کے لیےیہاں کلک کریں



جمعہ، 23 نومبر، 2012

فلیش ڈرائیو کو بطور رام استعمال کریں


فلیش ڈرائیو کو بطور رام ( Ram  )استعمال کریں

ونڈوز سیون کی ایسی بہت ساری خصوصیات ہے جو عام صارفین نہیں جانتے ۔ جب بھی ونڈوز سے ہم  USB Storage  Drive منسلک کرتے ہیں Auto-play Pop Up   ہوتا ہے کیا آپ نے کبھی اس پر غور کیا ہے کہ اس میں کون کون 
سے متبادل نظر آتے ہیں۔آج ہم ان ہی متبادل میں سے ایک کے ذریعے آپ کے سسٹم کی رفتار بڑھانے کا طریقہ بتانے جا رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کافی احباب اس طریقے کو جانتے ہوں لیکن جو ہماری طرح طفل مکتب ہیں ان کے لیے یہ بہت ہی کارگر نسخہ ثابت ہ سکتا ہے۔  ہم درج ذیل تصویر میں آپ کو  ظاہر ہونے والا  Pop Up  دکھاتے ہیں ۔


جی ہاں آپ نے بالکل صحیح اندازہ قائم کیا ہمارا اشارہ   Speed Up My System  کی طرف ہی تھا ۔ ونڈوز 7 مین یہ آپشن موجود ہے اور تقریباً دو سال سے 7 کا استعمال کرتے ہوئے بھی ہماری نظر اس آپشن کی طرف نہیں گئی تھی۔ اس آپشن کے ذریعے ہم اپنی ونڈوز کی رفتار کو بڑھانے کی کشش کرینگے۔
اس کے لیے دو چیزیں ضروری ہے ۔ 

ونڈوز 7 اور compatible  فلاش ڈرائیو 

آئیے ہم طریقہ بتاتے ہیں بعض اوقات پاپ اپ ظاہرنہیں ہوتا ہے ایسی صورت میں My computers  پر کلک کیجیے ۔اس کے بعد آپ کی فلیش درائیو پر Right Click    کیجیے


 اور اس کے بعد آپ کو   Properties پر کلک کرنا ہے ۔ پراپرٹیس پر کلک کرنے کے بعدآپ کے اسکرین پر کچھ اس طرح ونڈو ظاہر ہوگی ۔ 

اب اس ونڈو میں Ready boost  پر کلک کیجیے ۔ آپ کو درج ذیل نظر آئیگا۔



ظاہر ہونے والے متبادل میں سے کسی ایک کا انتخاب کیجیے۔ ونڈوز آپ کی فلیش ڈرائیو کے حجم کے مطابق مختص حجم تجویز کرتا ہے اب  Ok  پر کلک کریں اور آپ اپنے سسٹم کی رفتار کا مشاہدہ کریں۔


ونڈوز 7 کی رفتار میں اضافہ کرنے کے تعلق سے مزید ایک اور مضمون آپ یہاں   دیکھ  سکتے ہیں۔


جمعرات، 15 نومبر، 2012

اپنی ڈائری سے ۔ ۔ ۔

اپنی ڈائری سے ۔۔۔۔

(یہ تحریر  06/11/2006 کی ہے آج اتفاقاً اپنی  پرانی تحریر پر نظر پڑی تو و دلچسپی کے لحاظ سے سوچا  یہ مزیدار تحریر یہاں  پوسٹ کروں۔ )

رات میں ڈاکٹر سیف ا لدین کے یہاں RMO  کے فرائض انجام دے رہا ہوں۔ ہاسپٹل میں زیادہ  IPD  ہوتی نہیں ہے محض کوئی بھولا بھٹکا Emergency Case  آ ئے تو وہاں اپنی قابلیت کے جوہر دکھانے پڑتے ہیں اور پھر آرام سے سونا !!
کل رات میں سونے کی کوشش کر رہا تھا کہ اچانک کال بیل کی آواز سے لاحول پڑھتا ہوا اٹھا ۔ ۔ ۔ Emergency  میں جا کر دیکھا تو ایک حسینہ میک اپ میں لدی پھندی ، کہنیوں تک مہندی سجائے ہوئے بستر پر کراہ رہی تھی۔
مختصر حالات معلوم کر نے کے بعد پتا چلا کہ نا معلوم گولی کھانے سے گھبراہٹ شروع ہوئی ، لیکن معائنہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہونچا کہ شاید یہ نفسیاتی مریضہ ہے ۔ ۔ ۔
پھر بھی احتیاطاً ایک Avil  انجکشن دے دیا تا کہ اگر میری تشخیص میں کوئی غلطی بھی ہو رہی ہو تو محترمہ کو قدر راحت مل جائے۔ اور پھر ۔ ۔ ۔جیسا کہ اور نفسیاتی مریضوں کو ضرورت ہوتی ہے توجہ اور ذہنی سکون کی ۔ ۔ ۔ ایک گلوکوذ لگا کر اس میں ذہنی سکون کے لیے تھوڑی سی آئی وی دوائی ملا دی۔
اپنی کیبن میں آکر اس حسینہ کے ساتھ آئے ہوئے معصوم نوجوان سے History پوچھا تو وہ معصوم نہیں مظلوم نکلا۔
قصہ یوں تھا کہ محترمہ کی شادی ہوئے صرف دودن کاعرصہ گذرا تھا اور پچھلے دودن سے وہ Anxiety Disorder کا شکار تھی۔ میں نے مزید تفصیلات معلوم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کیونکہ اس معصوم شوہر کا چہرہ ہی طویل داستان بیان کر رہا تھا۔
میرے لیے ایک بڑی مصیبت یہ تھی کہ اس لڑکی کے میکے و سسرال والے تمام لوگ جمع ہو گئے تھے اور ہر ایک کا یہی سوال تھا کہ " ڈاکٹر صاحب ان کو کیا ہو گیا ؟"
خیر تمام تر الزامات دواؤں کے مضر اثرات کے سر تھونپ کر میں مظلوم شوہر کے حق میں دعا کرتا ہوا سو گیا  ؛) 

جمعہ، 9 نومبر، 2012

اردو بلاگنگ کیسے کریں ؟


 اردو بلاگنگ کیسے کریں ؟

(یہ پوسٹ ان ہندستانی بھائیوں کے لیے تحریر کی گئی  ہے جو اردو بلاگنگ تو کرنا چاہتے ہیں لیکن اس بات سے واقف نہیں ہے کہ بلاگنگ کیسے کی جاتی ہے )

آج کل اردو بلاگنگ کا رجحان زور پکڑ رہا ہے ۔ اردو بلاگنگ پہلے پاکستان تک ہی محدود تھی لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ ہندوستانی اردوداں حضرات بھی اردو بلاگنگ میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔ اکثر احباب کے ساتھ میرا اردو بلاگنگ کے موضوع پر تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے اور بہت سارے لوگ یہ کہتے  ہیں کہ ہم  کمپیوٹر اور بلاگنگ کی باریکیوں سے واقف نہیں  ہیں اس لیے  بلاگنگ  نہیں کر پاتے۔

جہاں تک باریکیوں کا سوال ہے تو مجھے  اردو کمپیوٹنگ اور بلاگنگ میں  سرے سے کوئی  باریکی  نظر ہی نہیں آتی۔ آج ہر چیز آپ کے لیے تیار ہے۔ بلال بھائی نےپاک اردو انسٹالر تیار کیا ہے جو محض چند کلک کے ساتھ آپ کے کمپیوٹر کو ( بہترین نستعلیق رسم الخط میں ) ارد وپڑھنے اور لکھنے کے قابل بنا دیتا ہے ۔  بلوگر آپ کو ٹیمپلیٹ ایڈٹ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے  ، اور ماشاءاللہ بہت سارے احباب روز بروز  بلاگر کے لیے نت نئی ٹیمپلیٹس کو اردو سانچے میں ڈھال رہے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک ٹیمپلیٹ کا انتخاب کر نے کے بعد آپ کو بلاگر میں اپلوڈ کرنا ہے اور آپ بلاگنگ کے لیے بالکل تیار ہو جاتے ہوں۔
سہولت کے لیے ہم آپ کو   درج ذیل عنوانات کت تحت سمجھانے کی کوشش کرینگے۔
اپنے کمپیوٹر کو اردو پڑھنے اور لکھنے کے قابل بنانا
اردو کے لیے یونیکوڈ فونٹس تیار ہونے سے پہلے ہم کمپیوٹر میں  اردو  کا استعمال تصویری انداز میں کرتے تھے   یہ اردو نہیں بلکہ اردو کی تصاویر ہوتی ہے جنہیں کمپیوٹر کا نظام نہ ہی سمجھ سکتا ہے اور نا ہی سرچ انجن اسے ڈھونڈ کر آپ تک نتائج پہنچا سکتا ہے۔ یونیکوڈ فونٹس کی تیاری کے ساتھ ہم اس قابل ہو گئے ہیں کہ کسی بھی اپلیکیشن میں ہم بہترین اردو رسم الخط میں اردو تحریر کر سکتے ہیں۔ اپنے کمپیوٹر کو اردو لکھنے اور پڑھنے کے قابل بنانے کے لیے تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہیں۔
1۔ اردو  یونیکوڈ فونٹس
2۔ اردو کی بورڈ
3۔ ونڈوز کے لیے اردو سپورٹ
یہ تینوں چیزیں مشہور بلاگر بلال صاحب نے ایک جگہ جمع کی ہے اور پاک اردو انسٹالر نام سے ایک سوفٹ ویئر تیار کیا ہے جس کی مدد سے محض چند کلک کی بناء پر ہمارا کمپیوٹر اردو لکھنے اور پڑھنے کے لائق بن جاتا ہیں۔
کمپیوٹر میں اردو تحریر کرنے کا طریقہ
فرض کیجیے آپ کو ایم ایس وردڈ میں اردو تحریر کرنی ہے۔
ایم ایس ورڈ  کا صفحہ کھولیں ، اب   Alt=Shift دبا کر اردو زبان منتخب کریں۔
اب فونٹس میں آپ کا اردو فونٹ بھی ظاہر ہونے لگے گا۔ اردو فونٹس میں کوئی بھی فونٹ منتخب کریں اور بہترین اردو رسم الخط میں تحریر کرنا شروع کریں۔
تحریر کرنے کے دوران یہ بات ملحوظ رہے کہ پاک اردو انسٹالرمیں فونیٹک کی بورڈ شامل کیا گیا ہے۔ لھٰذا اردو تحریر بھی آپ کو فونیٹک کی بورڈ کے لحاظ سے ہی کرنی ہوگی جو انتہائی آسان ہے۔
اردو بلاگنگ کیسے کریں ؟
بلاگر اور ورڈ پریس دو مشہور ویب سائٹس ہے جو آپ  کو مفت بلاگ کی خدمات مہیا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اور بہت ساری ویب سائٹس ایسے ہیں  جہاں آپ اپنا بلاگ مفت شروع کر سکتے ہیں۔ ٹمبلر ایک ایسی سوشل ویب سائٹ ہے جسے آپ  ٹوئٹر ، فیس بک اور بلاگر یا ورڈ پریس کا مرکب کہ سکتے ہیں ۔ یہ سوشل ویب سائٹ آپ کو بیک وقت تقریباً   وہ تمام خصوصیات عطا کرتی ہے  جو فیس بک ٹوئٹر اور بلاگر میں موجود ہے۔ ٹمبلر ٹوئٹر کی طرح ہے لیکن وہاں حروف کی قید نہیں ہے ، آپ اپنے دوستوں کے ساتھ اپنا مواد شیئر کرنے کے لیے فیس بک کی طرح کی خصوصیات استعمال کر سکتے ہیں اور مزید یہ آپ کو اپنے بلاگ کی ایچ ٹی ایم ایل ایڈت کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے لیکن فی الحال  یہ ویب سائٹ برصغیر ہند میں یہ اتنی مقبول نہیں ہوئی ہے۔
چونکہ بلاگر ایچ ٹی ایم ایل ایڈٹ کرنے کی سہولت عطا کرتا ہے اور یہ نسبتاً آسان ہے اس لیے ہم یہاں بذریعہ بلاگر ہی بلاگنگ پرگفتگو کریں گے۔
سب سے پہلے آپ کو www.blogger.com   پر اپنا بلوگ بنانا ہوگا ۔ یہ انتہائی آسان ہوتا ہے ۔ گوگل سے سائن ان 
کرنے کے بعد محض چند کلکس کے ساتھ بلاگر آپ کو نیا بلاگ تیار کر دیتا ہے۔


دوسرا مرحلہ اردو بلاگز کے لیے اردو سانچے کا ہوگا ۔ جو لوگ اپنے بلاگ کو نستعلیق رسم الخط میں دیکھنا پسند کرتے ہیں انہیں ایسی ٹیمپلیٹ اپلوڈ کرنی ہوتی ہے جس میں اردونستعلیق فونٹ شامل ہو۔
آجکل بلاگر کے لیے بہت سارے اردو سانچے دستیاب ہے ہم نے بھی دو تین سانچے ابھی تک اس بلاگ پر پوسٹ کیے ہیں ۔ مزید سانچے مندرجہ ذیل ویب سائٹس سے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔



یہ سانچے ڈاونلود کرنے کے بعد  آپ کو ان سانچوں کو بلاگر میں اپلوڈ کرنا ہوگا۔



بلاگر ڈیش بورڈ میں جا کر ٹیمپلیٹ پر کلک کیجیے۔


اب آپ کو دائیں طرف    back up/ Restore   آپشن نظر آئیگا۔


اب اس پر کلک کرنے کے بعد آپ کو درج ذیل نظر آئیگا۔


اب آپ کو  Choose file  پر کلک کرنا ہے اور اس کے بعد اپنا منتخب کردہ ارو سانچہ اپلوڈ کرناہے۔

ایک بار سانچہ اپلوڈ ہونے کے بعد آپ کا بلاگ دلکش نستعلیق رسم الخط کے ساتھ بلاگنگ کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔
اب اگر آپ نے ایم ایس ورڈ میں کوئی مضمون تحریر کیا ہو اور اسے پوسٹ کرنا چاہتے ہیں یا براہ راست بلوگر میں کوئی تحریر پسٹ کرنہ ہے تو New Post  پر کلک کریں اور اپنی پوسٹ شائع کریں۔

اگر آپ سی ایس ایس سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتے ہیں تو آپ خود بلاگر سانچوں کو اردو میں ڈھال سکتے ہیں۔ یہ بھی بہت آسان ہوتا ہے اور  اس میں آسانی یہ ہیکہ بہت ساری ویب سائٹس پر بلاگر کے ہزاروں سانچے مفت استعمال کی سہولت کے ساتھ وجود ہیں آپ اپنے من پسندسانچوں کا انتخاب کرنے کے بعد انہیں اردو پیرہن پہنا سکتے ہیں۔یہ سانچے آپ مندرجہ ذیل ویب سائٹس سے مفت صاصل کر سکتے ہیں۔
بلاگر کے اردو سانچوں میں اردو فونٹ شامل کرنے کے لیے   ٹیمپلیٹ میں جہاں کہیں فونٹ کا تذکرہ  ہو وہاں آپ کو اردو فونٹس شامل کرنے ہوتے ہیں۔ مثلاً
body {
            margin:0 auto;
            padding:0px 0px 0px 0px;
            background:#212121  url(http://2.bp.blogspot.com/-JbDQlnDRmD0/UGURHndf9mI/AAAAAAAAGtc/BvPZenzpNsY/s1600/body.png);
            font-family: Arial, verdana,Tahoma,Century gothic,  sans-serif;
            font-size:16px;
         text-align:right;
          line-height: 1.5em;
کی بجائے آپ کو اس طرح اردو فونٹ شامل کرنے ہوگے۔
body {
            margin:0 auto;
            padding:0px 0px 0px 0px;
            background:#212121  url(http://2.bp.blogspot.com/-JbDQlnDRmD0/UGURHndf9mI/AAAAAAAAGtc/BvPZenzpNsY/s1600/body.png);
            font-family:"Jameel Noori Nastaleeq","Alvi Nastaleeq", Arial, verdana,Tahoma,Century gothic,  sans-serif;
            font-size:16px;
         text-align:right;
          line-height: 1.5em;

ایک بار آپ بلوگنگ شروع کر یں اور دل میں شوق ہو تو یہ باریکیاں کوئی معنیٰ نہیں رکھتی۔ تو دیر کس بات کی قارئین آپ کے بلاگ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ فوراً سے پیشتر نیا بلاگ بنائیے۔





جمعہ، 26 اکتوبر، 2012

معذرت


معذرت

میں بلاگ کے معزز سبسکرائبرس  سے معذرت خواہ ہوں کچھ ٹیکنیکل مسائل کی وجہ سے مجھے مکمل بلاگ حذف کرنے کے بعد دوبارہ ایک نئئےسانچے کے ساتھ اپلوڈ کرنا پڑا اب جب بھی میں کسی پرانی تحریر میں نئے سانچے کی وجہ سے کچھ ترمیم کرتا ہوں تو سبسکرائبر س کو نئی پوسٹ کی اطلاع دی جا رہی ہے۔ اسی طرح اردو ویب سیارہ کے ریڈرس سے بھی میں معذرت خواہ ہوں وہاں پر نئی پوسٹس کے متعلق اطلاعات کا سلسلہ نظر آ رہا ہے ۔ امید کرتا ہوں  کہ تکنیکی غلطی کی وجہ سے پیدا ہونے والی اس صورتحال میں مجھے معذور سمجھا جائیگا۔

جمعرات، 11 اکتوبر، 2012

سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کا دعوتی پہلو

سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کا دعوتی پہلو

پوری دنیا میں  کفر ایک پرچم تلے جمع ہو کر جس طرح اسلام کے خلاف سازشیں کر رہا ہے جس طرح مسلمانوں کی شبیہ کو خراب کیا جا رہا ہے اسلام کو (نعوذباللہ ) جنگجو مذہب اور اس کے پیروکاروں کو دہشت گرد اور اس سے بھی بڑھ کر حیوان کا خطاب دیا جا رہا ہے ۔ اسلام دشمنی اور مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنا گویا آج کا فیشن بن چکا ہےوہ ہر با شعور مسلمان پر عیاں ہے  ایسے حالات میں مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ  وہ اعداء کی چالوں کو سمجھتے  ہوتے ہوئے تشدد کی راہ اختیار کیے بغیر اسلامی تعلیمات کو موثر طریقہ سے عام کرنے کی کوشش کریں۔دعوت  ۔ ۔  دین کا ایک بڑا شعبہ ہے اور افسوس کے ہم نے اسی شعبے سے بے انتہا غفلت برتی ہے ۔ افسوس کہ ہمارے اخلاق و کردار کی گراوٹ  اور آپسی انتشار نے دوسرے مذاہب  کے ماننے والوں کے سامنے اسلام کی انتہائی متضاد تصویر پیش کی ہے ۔  اور پھر اسلام کے خلاف دشمنوں کے پروپیگنڈے نے غیر مسلموں کے ذہن میں اسلام کی نہایت مسخ شدہ شکل راسخ کر دی ہے۔ دور حاضر میں اسلام دشمن عناصر  سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کو اسلام کو بدنام کرنے کا ایک بڑا حربہ بنا چکے ہیں۔ آئے دن ہم دیکھتے ہیں کہ  جھوٹی تصاویر اور فرضی کہانیاں ان ویب سائٹس پر شائع کر کے مسلمانوں کی نہایت قبیح تصویر پیش کی جاتی ہے ۔
اور ان سائٹس پر مسلم نوجوانوں پر نظر کی جائے تو ۔۔۔ علامہ اقبال کا یہ مصرعہ صادق آتا ہے۔

یہ مسلماں کہ جنہیں دیکھ کر شرمائے یہود


مسلم نوجوانوں  کو  غیر اخلاقی مواد شائع کرنے اور فحش تبصروں و فلرٹنگ سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ جن میں کچھ اسلامی شعور پایا جاتا ہے وہ بھی محض نظریاتی بنیاد پر ایک دوسرے کی تردید کرتے نظر آتے ہیں۔کچھ صاحب نظر اللہ کے بندے کوشش کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں لیکن  نقار خانے میں طوطی کی آواز کو ن سنے کی مصداق ان کی پوسٹس بھی دب جاتی ہیں۔
غور کیا جائے تو یہ سوشل ویب سائٹس ہمیں دعوت کا ایک بہت بڑا موقعہ فراہم کرتی ہے ۔ ہمارے دوستوں میں اکثر غیر مسلم برادران وطن بھی شامل ہوتے ہیں جن تک ہم براہ راست اسلام کی دعوت پہنچانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں تک اسلامی تعلیمات پہونچانے میں سوشل ویب سائٹس انتہائی اہم رول ادا کر سکتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہم ہمہ وقت مبلغ بن کر ان لوگوں کے پیچھے پڑ جائے۔ لیکن جہاں ہم دن میں دس تبصرے اور پوسٹس کرتے ہیں کیا وہاں ہم کسی ایک پوسٹ میں اسلامی تعلیمات کو پیش نہیں کر سکتے ؟ ہمیں اپنی ٹائم لائن پر جب گوتم بدھ، مہاویر ، سوامی وویکانند  وغیرہم کے اقوال نظر آتے ہیں تو کیا ہم فرزندان اسلام ہونے کے ناطے معاشرے میں پھیلے ہوئے اخلاقی رذائل سے متعلق حضور اقدسﷺ کی ایک حدیث نہیں پیش کر سکتے ؟  اسلامی تعلیمات میں اتنی کشش موجود ہے کہ وہ پتھر سے پتھر دل کو موم بنا دیتی ہے ۔ ہمارا تجربہ ہیکہ اصلاحی اقوال اور حق باتوں کی تشہیر کے لیے زیادہ محنت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے یہ سلسلہ شروع کرنے کے بعد نیک روحیں خود بخود کھینچی چلی آتی ہے اور بہت سارے غیر مسلم حضرات بھی نہ صرف ان باتوں کو پسند کرتے ہیں بلکہ اپنی ٹائم لائن پر ان چیزوں کا اشتراک بھی کرتے ہیں۔یہاں میں ایک انتہائی اہم امر کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ بعض جوشیلے نوجوان اسلامی تعلیمات شئیر کرنے کی بجائے  براہ راست گیتا اور وید سے کہیں کچھ حوالے لاکر اسلام کی حقانیت کا ثبوت پیش کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ میں ان لوگوں سے نہایت ادب کے ساتھ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ موجودہ حالات اور حکمت کا تقاضہ یہ ہیکہ پہلے اسلامی تعلیمات کے ذریعے غیر مسلم بھائیوں کے دلوں اسلام اور مسلموں کے تعلق سے چڑھا ہوا زنگ صاف کیا جائے تب ہی اس طرح کی کوششیں کامیاب ہوگی جن کے ذہن مسلمانوں کے تئیں صاف نہیں ہے اور جن کی حالت یہ ہیکہ انہیں خود ان کی مقدس کتابوں کے نام تک نہیں پتا وہ ایسے حوالوں سے قریب آنے کی بجائے ہم سے متنفر ہو جاتے ہیں۔
اس بات کی اشد ضرورت ہیکہ ہم  اپنے اخلاق و کردار کی گراوٹ کو دور کرنے کی ہمیشہ کوشش جاری رکھیں۔ سوشل ویب سائٹس پر فحش اور غیر اخلاقی حرکتوں سے اپنے آپ کو بچائیں اور جن لوگوں کو اللہ نے صلاحیتوں سے نوازا ہے وہ  سوشل ویب سائٹس کے اس دعوتی پہلو کا خوب فائدہ اٹھائیں۔ جو لوگ ہندی اور انگریزی سے اچھی واقفیت رکھتے ہیں  وہ اسلامی تعلیمات کو ہندی اور انگریزی زبانوں میں بہترین انداز میں کمپوز کر کے پوسٹ کریں اور دوسرے احباب ان پوسٹ کو اشتراک کریں۔


 

ہفتہ، 21 جولائی، 2012

مرحبا یا شہر رمضان






پیارے دوستوں !
ماہ مبارک اپنی تمامتر رحمتوں و برکتوں کے ساتھ اپنے دامن میں نور ہی نور سمیٹے ہوئے آ گیا ہے ۔ ۔ جی ہاں یہ ہی تو وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا ۔ ۔ ۔
شهر رمضان الذي انزل فيه القرآن
یہ ہی تو وہ پاک و بابرکت ماہ ہے جس کی ایک رات ہزار راتوں سے افضل ہے
ليله القدر خير من الف شهر
اسی ماہ مباک میں اللہ سبحانہ و تعالٰی اپنے بندوں کی بے شمار مغفرت فرماتے ہیں۔
اللہ ہم سب کو اس ماہ مبارک کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس ماہ مبارک کی برکتوں سے پریشان حال مسلمانوں کی پریشانیوں کو دور فرمائیں ۔  آمین

بدھ، 18 جولائی، 2012

فوٹو شاپ کے لیے کلاؤڈ ( بادل ) برش


فوٹو شاپ کے لیے کلاؤڈ ( بادل ) برش

کافی دنوں سے کوئی پوسٹ نہیں آئی ہم آج یہ ہی سوچ رہے تھے کہ کچھ نیا پوسٹ کیا جائے اور اسی دوران ہماری نظر فوٹو شاپ کے لیے بہترین کلاؤڈ برش پر پڑی  ، یہ سیٹ کل 24 قسم کے مختلف برش پر مشتمل ہے ۔اور ماشاءاللہ بڑی خوبصورتی سے کام کرتا ہے۔ یہ برش ہمیں برش ایزی ڈاٹ کام سے حاصل ہوئے ہیں جہاں فٹو شاپ سے متعلق  مفت ڈاونلود کے 
لیے مزید اور کارآمد مواد دستیاب ہے۔


فوٹو شاپ میں برش انسٹال کرنے کا طریقہ

1۔ سیسٹم فائل میں جا کر فوٹوشاپ پر کلک کریں۔
2۔ اب موجود فولڈرس میں سے Preset  پر کلک کریں۔
3۔ اب Brushes پر کلک کریں۔
4 ۔ ڈاونلوڈ کیے ہوئے برش وہاں paste  کریں۔





بدھ، 30 مئی، 2012

دائیں کلک کو غیر فعال کریں



"اپنی تحریر کاپی ہونے سے بچائیں "
دائیں  کلک کو کس طرح غیر فعال کریں؟۔

شاید ہماری گذشتہ تحریر آپ کی نظروں سے گذ ری ہوگی جس میں ہم نے یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ اگر کوئی آپ کے بلوگ سے  contents  چوری کرنا چاہے تو اسے کاپی رائٹ سے خبردار کیسے کیا جائے ۔ یا اگر کوئی نیک نیتی سے بھی کاپی کر رہا ہو تو بذات خود آپ کا لنک کیسے چسپاں ہو جائے  جن حضرات نے وہ آرٹیکل نہیں پڑھا ہے وہ  اسے یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ ۔
آج ہم آپ کے ساتھ اپنے کاپی رائٹ محفوظ کرنے کا ایک دوسرا طریقہ شیئر کر رہے ہیں۔یہ طریقہ ان ڈھیٹ قسم کے لوگوں کے لیے ہیں جو آپ کے کاپی رائٹس کی پرواہ نہیں کرتے اور نہ ہی آپ کا حوالہ اور لنک دینا مناسب سمجھتے ہیں۔
اس طریقہ کو استعمال کرنے کے بعد آپ کے بلوگر بلاگ پر دائیں یا بائیں طرف کلک غیر فعال ہو جاتا ہے  اور آپ کے بلاگ سے کوئی کاپی پیسٹ نہیں کر پاتا۔



طریقہ بلکل آسان ہے ۔ ۔ ۔ اپنے بلوگر ڈیش بورڈ میں جاکر  lay out    پر کلک کریں  ۔
اب آپ کو  Add a new Gadget  پر کلک کرنا ہے ۔ اس کے بعد  HTML/ Javascript  پر کلک کیجیے اور مندرجہ ذیل کوڈ چسپاں کر دیں۔


<script language=javascript>
<!--

//Disable right mouse click Script
//By Being Geeks
//For full source code, visit http://www.beinggeeks.com

var message="Function Disabled!";

///////////////////////////////////
function clickIE4(){
if (event.button==2){
alert(message);
return false;
}
}

function clickNS4(e){
if (document.layers||document.getElementById&&!document.all){
if (e.which==2||e.which==3){
alert(message);
return false;
}
}
}

if (document.layers){
document.captureEvents(Event.MOUSEDOWN);
document.onmousedown=clickNS4;
}
else if (document.all&&!document.getElementById){
document.onmousedown=clickIE4;
}

document.oncontextmenu=new Function("alert(message);return false")

// -->
</script>

تبدیلیاں محفوظ کریں اور یہ ٹرک اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔